انسان ساری زندگی دنیاوی اور اخروی ترقی اور درجات کی بلندی کے لیے کوشاں رہتا ہے. ہر صاحب نظر شخص خواہش مند ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں بلندی اور کمال عطاء فرمائے. سوال یہ ہے کہ بلندی، کمال اور رفعت کا حصول کیسے ممکن ہو. ہم میں سے اکثر لوگ اس حقیقت سے ناآشنا ہیں. یہ بات زہن نشیں رھے کہ درجات کی بلندی کا زریعہ مجالس ھییں جو درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں.
اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا..
،، اے ایمان والو!جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلس میں کشادگی پیدا کرو تو کشادہ ہو جایا کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی عطا فرمائے گا اور جب کہا جاےکہ کھڑے ہو جاو تو تم کھڑے ہو جایا کرو، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے،؛؛( المجادلۃ 11:58
اس آیت کریمہ کے مفہوم سے مندرجہ ذیل نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے
١:, اس آیت کریمہ کے پہلے حصے میں المجالس جبکہ آخری حصہ میں العلم کا زکر ہے جس سے مجالس علم کی اہمیت کا اندازہ ہو رہا ہے
٢:اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے توسط سے مسلمانوں کو مجالس کے نشست وبرخاست کے آداب سمجھانے کے بعد فرمایا کہ اگر تم یہ آداب مجالس پر عمل کرو تو اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا گویا اللہ تعالیٰ نے درجات کی بلندی اور مجالس کو باہم منسلک کر دیا ہے
٣: اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہو تا ہے کہ مجلس میں بیٹھنے سے درجات کی بلندی تبھی نصیب ہو گی کہ جب بیٹھنے والے کو کوئی روحانی اور اخروی نفع حاصل ہو اور اس کی خیر میں اضافہ ہو بالفاظ دیگر روحانی اخروی یا دینی کسی بھی اعتبار سے خیر میں اضافہ درجات کی بلندی کا باعث بنتا ہے
اس ضمن میں بہت سے سوالات سامنے آتے ہیں مثلاً وہ کون سی مجالس ہیں جو بیٹھنے والے کے ایمان اور علم میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں کیسی مجالس اور اوصاف کے حامل ھم نشیں کا انتخاب کیا جائے. مجالس کے عنوان کیا ھوں. تو پھر اس سلسلے میں حضور اکرم صلعم کے ان فرامین سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن میں آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نےایسی مجالس اور ہم نشینوں کی صفات بیان کی ہیں؛؛
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صل علی علیہ والہ وسلم ہمارے بہترین ہم نشیں کون ہے آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دیکھنا تمہیں اللہ تعالیٰ کی یاد دلا دے جس کا بولنا تمہارے علم میں اضافہ کر داور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دہانی کروا دے
جس طرح ماحول کے انسانی جسم پراثرات ہوتے ہیں اسی طرح صحبت صالحین اور مجالس علم کے قلب وروح پر اثرات مرتب ہو تے ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں