سوچتا ہوں علی سدپارہ نادان تھے جو بغیر آکسیجن دنیا کا ایک بلند ترین پہاڑ سر کرنے چلے تھے، پھر سوچتا ہوں کہ انسان اپنی جان ہتھیلی پر لئے پہاڑوں کی چوٹیوں، سمندروں کی گہرائیوں اور خلا کی وسعتوں کا مسافر نہ بنتا تو آج زندگی کتنی محدود ہوتی، انسانیت کتنی نئی منزلوں اور کتنی نئی جہتوں سے بے بہرہ ہوتی۔۔ سوچتا ہوں کہ صرف یہ بات ہم تک پہنچانے کے لئے کہ فلاں فلاں شے کھانے سے انسان مر سکتا ہے، کتنے انسانوں نے اپنی جان دی ہو گی تب جا کر انسان نے سیکھا ہو گا کہ کیا امرت ہے اور کیا زہر۔۔۔ خدا کے نام پر ایک دوسرے کی جان لینے پر ورغلانے والے انسانوں سے وہ انسان کس قدر عظیم ہوں گے جنہوں نے رائزک، پیناڈول اور ایسی ہزاروں دوائیں خود پر رضاکارانہ طور پر آزمانے کی اجازت دے کر، اپنی جان خطرے میں ڈال کر آنے والے اربوں انسانوں کو تکلیف سے نجات دلائی۔۔۔ خدا کی کائنات کے رنگوں اور گوشوں تک رسائی اور خدا کے بندوں کی مسیحائی۔۔۔ ایسی نادانی پر ہزاروں عقلیں قربان
🥝🥝.. #انجیر .(Anjeer).🥝🥝 #پاکستان کی سر زمین پر تقریبا 18 ہزار من سالانہ انجیر پیدا ہوتا ہے, جبکہ یہاں سالانہ تقریباً 28 ہزار من انجیر کی مانگ ہوتی ہے.اسی لیے ہمیں اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے ترکی، ایران اور افغانستان سے سالانہ تقریباً 10 ہزار من خشک انجیر خرید کر پاکستان لانا پڑتا ہے. یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں انجیر اس قدر مہنگا ہے کہ عام آدمی اسے کھانے کے بارے سوچ ہی نہیں سکتا. انجیر کی فصل لگانے کے لئے دس/10 فٹ کے فاصلے پر قطاریں بنا کر اور ان قطاروں میں دس/10 فٹ کے فاصلے پر ہی پودے لگائے جاتے ہیں. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریباََ 435 پودے لگائے جاسکتے ہیں. یاد رہے کہ ایک دفعہ لگایا ہوا انجیر کا پودا 15 سے 20 سال تک بھر پور پیداوار دیتا ہے. نرسری میں انجیر کا ایک پودا تقریباََ 50 روپے میں مل جاتا ہے. اس طرح پودے لگانے کا فی ایکڑ خرچ تقریباََ 22 ہزار روپے ہو سکتا ہے. ایک پودا کم از کم 6 کلوگرام پیداوار دیتا ہے. اس طرح سے ایک ایکڑ سے تقریبا 2600 کلو یا 65 من تازہ انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے.اگر انجیر کو خشک کر لیا جائے تو تقریباََ 1430 کلو صافی خشک انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے.اب اگر انجیر...

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں