نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیرت مند مسلمان




مہاتیرمحمد انگلینڈ کے دورے پر گئے۔ صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔
جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے مہاتیرمحمد نے کارٹون ٹیبل پر رکھ کر پوچھا:
*"کیا برطانیہ میں مہمان کے استقبال کا یہی طریقہ ہے؟"*
انگلینڈ کے وزیراعظم نے کہا:
*"یہاں کا میڈیا آزاد ہے۔"*
مہاتیر محمد نے جواب دیا:
*"ٹھیک ہے جب تم میڈیا کی آزادی اور دوسروں کی دل آزاری میں تمیز سیکھ لو تو پھر ہماری ملاقات ہو گی۔"*
ملاقات ختم کر دی گئی۔
وہاں سے ملائشیا اپنے آفس فون کیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے انگلینڈ کے باشندوں کے ملائشیا میں موجود کاروبار فورا" بند اور اکاؤنٹ سیل کر دئے جائیں اور انگریزوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ملائشیا بدر کر دیا جائے۔
حکم پر فوری عمل ہوا۔
جب مہاتیر محمد ملائشیا پہنچا تو ان کے دفتر میں *انگلینڈ کے وزیراعظم کا معافی نامہ ان سے پہلے پہنچ گیا تھا ساتھ ہی کارٹونسٹ کو پابند سلاسل کر دیا گیا تھا *

اور اب یہ انشاء اللہ العزیز پاکستان میں ہونے جا رہا ہے کیونکہ جب تک قومیں خود مختار نہیں ہوتیں وہ کبھی بھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں ۔

*"جاگ امت مسلمہ جاگ"*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

علی سدپارہ کا مشن

سوچتا ہوں علی سدپارہ نادان تھے جو بغیر آکسیجن دنیا کا ایک بلند ترین پہاڑ سر کرنے چلے تھے، پھر سوچتا ہوں کہ انسان اپنی جان ہتھیلی پر لئے پہاڑوں کی چوٹیوں، سمندروں کی گہرائیوں اور خلا کی وسعتوں کا مسافر نہ بنتا تو آج زندگی کتنی محدود ہوتی، انسانیت کتنی نئی منزلوں اور کتنی نئی جہتوں سے بے بہرہ ہوتی۔۔ سوچتا ہوں کہ صرف یہ بات ہم تک پہنچانے کے لئے کہ فلاں فلاں شے کھانے سے انسان مر سکتا ہے، کتنے انسانوں نے اپنی جان دی ہو گی تب جا کر انسان نے سیکھا ہو گا کہ کیا امرت ہے اور کیا زہر۔۔۔ خدا کے نام پر ایک دوسرے کی جان لینے پر ورغلانے والے انسانوں سے وہ انسان کس قدر عظیم ہوں گے جنہوں نے رائزک، پیناڈول اور ایسی ہزاروں دوائیں خود پر رضاکارانہ طور پر آزمانے کی اجازت دے کر، اپنی جان خطرے میں ڈال کر آنے والے اربوں انسانوں کو تکلیف سے نجات دلائی۔۔۔ خدا کی کائنات کے رنگوں اور گوشوں تک رسائی اور خدا کے بندوں کی مسیحائی۔۔۔ ایسی نادانی پر ہزاروں عقلیں قربان

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...