نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نیا گریٹ گیم اور پاکستان



نیو گریٹ گیم کیا ھے اور نیو گریٹ گیم میں پاکستان کی حکومت کیا کرے؟

امریکہ کے علاوہ اب چین اور روس بھی بین الاقوامی کھلاڑی بنتے جارھے ھیں۔ سینٹرل ایشیا ' مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا کا علاقہ امریکہ ' چین اور روس کے کھیل کا اکھاڑہ بن چکا ھے۔ اس کھیل کو "نیو گریٹ گیم" کہا جاتا ھے اور پاکستان کے چین ' سینٹرل ایشیا ' مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا کے سنگم پر واقع ھونے کی وجہ سے پاکستان کی جیو پولیٹیکل اھمیت ھے۔ اس لیے "نیو گریٹ گیم" میں پاکستان کا مرکزی کردار ھے اور رھے گا۔

بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین اور روس ھوں یا اھم علاقائی کھلاڑی ترکی ' ایران ' سعودی عرب ' متحدہ عرب امارات ھوں۔ ان کھلاڑیوں کے لیے جیو پولیٹیکل اھمیت کی وجہ سے "نیو گریٹ گیم" میں پاکستان کا تعاون بنیادی اھمیت کا حامل ھے اور رھے گا۔

چین اور ساؤتھ ایشیا کے ساتھ تو بھارت کا جیو پولیٹیکل تعلق ھے لیکن سینٹرل ایشیا اور مڈل ایسٹ کے ساتھ بھارت کا جیو پولیٹیکل تعلق نہ ھونے کی وجہ سے "نیو گریٹ گیم" میں بھارت نہ تو بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین اور روس کے لیے سود مند ھے اور نہ علاقائی کھلاڑی ترکی ' ایران ' سعودی عرب ' متحدہ عرب امارات کے لیے فائدہ مند ھے۔

پاکستان کے چین ' سینٹرل ایشیا ' مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا کے سنگم پر واقع ھونے کی وجہ سے "نیو گریٹ گیم" میں پاکستان کا کردار مرکزی ھے اور رھے گا۔ اس لیے پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لیے کچھ کھلاڑی بھارت کو استعمال کرکے بھارت کا پاکستان کے ساتھ تنازعہ کھڑا کرکے "نیو گریٹ گیم" میں پاکستان کے مرکزی کردار کو دباؤ میں رکھنا یا پاکستان کو دباؤ میں لاکر پاکستان کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاھتے ھیں۔

اس وقت دنیا کے فوجی + مالی طاقت کی وجہ سے ترتیب کے لحاظ سے 20 طاقتور ترین ملک امریکہ ' روس ' چین ' برطانیہ ' جرمنی ' فرانس ' جاپان ' اسرائیل ' سعودی عرب ' متحدہ عرب امارات ' جنوبی کوریا ' کینیڈا ' ترکی ' ایران ' سوئزرلینڈ ' انڈیا ' آسٹریلیا ' اٹلی ' سوئیڈن اور پاکستان ھیں۔

"نیو گریٹ گیم" کے براہِ راست بین الاقوامی کھلاڑی؛ امریکہ ' روس ' چین ھیں۔ علاقائی کھلاڑی؛ ترکی ' ایران ' سعودی عرب ' متحدہ عرب امارات ھیں جبکہ بھارت خاہ مخواہ کا کھلاڑی ھے۔ لیکن برطانیہ ' جرمنی ' فرانس ' جاپان ' اسرائیل ' جنوبی کوریا ' کینیڈا ' سوئزرلینڈ ' آسٹریلیا ' اٹلی ' سوئیڈن بھی دنیا کے 20 طاقتور ترین ملکوں میں ھونے کی وجہ سے "نیو گریٹ گیم" سے لاتعلق نہیں ھیں۔

دنیا کے 20 طاقتور ترین ملکوں میں رھنے والوں میں سے قومی اور بین الاقوامی معاملات سے آگاہ سرمایہ دار اور صحافی ھی "نیو گریٹ گیم" کی شد بد رکھتے ھیں۔ قومی اور بین الاقوامی معاملات کی سفارتکاری اور سیاست کرنے والے سفارتکار اور سیاستدان ھی "نیو گریٹ گیم" کو سمجھ سکتے ھیں۔ قومی اور بین الاقوامی معاملات کی مھارت رکھنے والے سول سرکاری افسران اور فوجی جرنیل ھی "نیو گریٹ گیم" کا کھیل کھیل سکتے ھیں۔

پاکستان کے چین ' سینٹرل ایشیا ' مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا کے سنگم پر واقع ھونے کی وجہ سے "نیو گریٹ گیم" میں پاکستان کی جیو پولیٹیکل اھمیت کا پاکستان کی عوام کو بھرپور فائدہ پہنچانے کے لیے ضروری ھے کہ؛

1۔ قومی اور بین الاقوامی معاملات سے آگاہ سرمایہ داروں اور صحافیوں ' قومی اور بین الاقوامی معاملات کی سفارتکاری اور سیاست کرنے والے سفارتکاروں اور سیاستدانوں ' قومی اور بین الاقوامی معاملات کی مھارت رکھنے والے سول سرکاری افسروں اور فوجی جرنیلوں کو پاکستان کی حکومت کی طرف سے منظم اور متحد کرکے باقائدہ پرواگرام اور پالیسی کے تحت پاکستان کی طرف سے "نیو گریٹ گیم" کھیلا جائے۔

2۔ "نیو گریٹ گیم" سے آگاہ نہ ھونے کی وجہ سے پاکستان کی عوام "نیو گریٹ گیم" کے ختم ھونے تک اپنی سیاسی سرگرمیاں اپنے مقامی اور صوبائی سطح کے سماجی ' معاشی ' انتظامی اور اقتصادی معاملات تک محدود رکھے۔

قومی اور بین الاقوامی معاملات کی آگاھی نہ رکھنے والوں ' قومی اور بین الاقوامی معاملات کی سفارتکاری اور سیاست کو نہ سمجھنے والوں اور قومی اور بین الاقوامی معاملات کی مھارت نہ رکھنے والوں کے ذریعے اور باقائدہ پرواگرام اور پالیسی بنائے بغیر اگر پاکستان کی طرف سے "نیو گریٹ گیم" کھیلا گیا تو پاکستان کے چین ' سینٹرل ایشیا ' مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا کے سنگم پر واقع ھونے کی وجہ سے پاکستان کی جیو پولیٹیکل اھمیت ھونے اور "نیو گریٹ گیم" میں پاکستان کا مرکزی کردار ھونے جبکہ بین الاقوامی کھلاڑی امریکہ ' چین ' روس اور علاقائی کھلاڑی ترکی ' ایران ' سعودی عرب ' متحدہ عرب امارات کے لیے "نیو گریٹ گیم" میں پاکستان کا تعاون بنیادی اھمیت کا حامل ھونے کے باوجود؛

1۔ پاکستان اچھے طریقے سے "نیو گریٹ گیم" نہیں کھیل سگے گا۔

2۔ پاکستان کی عوام کو ناقابل تلافی نقصان ھوگا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...