جی بالکل اس ملک پر ہر ایک نے احسان کیا ہے
کراچی ستّر فیصد ریونیو جنریٹ کرکے احسان کررہا ہے، اندرونِ سندھ بھٹو کو بعد از مرگ بھی زندہ رکھ کر احسان کررہا ہے، بلوچستان کے گیس سے یہ ملک چل رہا ہے، اور پختونخواہ کے خشک میوے اس ملک کو مردانہ طاقت کی قوی ضمانت دیتے ہیں اور پنجاب کے پاس کیا ہے؟ کُچھ بھی نہیں یہ پٹھان ،بلوچ، عرب، تو بس احسان کرنے کے لیے پنجاب میں آبسے کیونکہ انکے پاک و مقدس وجود کے بغیر پنجاب کسی کام کا نہیں تھا،
میں سعودی عرب میں تھا تو چند سال سعودیہ میں چاول ڈسٹری بیوٹ کرنے والی ایک کمپنی سے ایز اکاؤنٹنٹ منسلک رہا وہ چاول ہندوستان کی ریاستوں ہریانہ اور پنجاب سے آتا تھا سعودیہ کی ضرورت کا کم و بیش اسّی فیصد چاول ہندوستان سے آتا ہے لیکن سعودیہ میں پاکستانی چاول کا شئیر بہت کم ہے اسکی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان میں چاول پیدا نہیں ہوتا نہیں بلکہ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی چاول واہگہ بارڈر کے رستے انڈیا جاتا ہے اور انڈیا اس چاول کو اپنے برینڈ نیم سے ری پیک کرکے سعودیہ اور دوسری مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بھیجتا ہے،
لیکن پنجاب کے پاس کیا ہے؟ زرداری دور میں آٹے کا ایک بحران آیا تھا شہباز شریف نے بین صوبائی گندم کی تجارت پر پنجاب میں پابندی لگا دی تھی اور چند ہفتوں میں ہی مردانہ صوبہ سرحد اور افغانستان تک میں اکال کی سی کیفیت تھی یہی نہیں سندھ اور بلوچستان بھی حال حال کرنے پر مجبور ہوگئے تھے، لیکن پنجاب کے پاس کیا ہے؟ فیفا ورلڈ کپ میں سیالکوٹ کے فٹ بال استعمال ہوتے ہیں اور سیالکوٹ کی فُٹ بال پروڈکشن اتنی ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والا ہر چوتھا فٹ بال سیالکوٹ میں بنا ہوتا ہے، یہ سیالکوٹ کی صرف ایک انڈسٹری کا ذکر ہے باقی اس کے علاوہ ہیں فُٹ بال انڈسٹری حکومت پاکستان یا حکومتِ پنجاب نے نہیں لگائی یہ انڈیپینڈنٹ انڈسٹرئیلسٹس نے لگائی ہے، لیکن پنجاب کے پاس ہے کیا؟ یہ چمڑے کی صنعت اسی بھوکے ننگے پنجاب کے دم سے چل رہی ہے یہ صنعت اس دھرتی پر اتنی پرانی ہے کہ یہاں کی ایک پوری برادری صدیوں سے چمڑے کے کام کی وجہ سے چمار کہلواتی تھی،
لیکن پنجاب کے پاس کُچھ ہے بھی؟ یہ نمانا فیصل آباد چناب کالونی کا ایک انپڑھ شہر (حالانکہ اس شہر کی لٹریسی ریٹ پاکستان کے ٹاپ ٹین شہروں میں شُمار ہوتا ہے) اور پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا شہر جسے لوگ جُگتوں کی وجہ سے جانتے ہیں پاکستان کا ٹیکسٹائل انڈسٹری کا تاج ہے لیکن زرداری دور میں اس شہر کی انڈسٹری برباد کرنے کے لیے سندھی زرداری صاحب نے اپنا کامل زور لگایا یہ جو سستا کپڑا پاکستانی پہنتے ہیں اور اربوں روپیہ ایکسپورٹ سے حاصل کرتے ہیں یہ صرف پنجاب کی برکت سے ہے لیکن پنجاب کے پاس ہے ہی کیا؟ دنیا کی کینو کی پیداوار کا کم و بیش دو تہائی کینو پنجاب پیدا کرتا ہے سرگودھا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ اس کینو کی پیداوار کے گڑھ ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں پاکستان میں لٹریسی ریٹ میں ٹاپ ایٹ شہروں میں شُمار ہونے والا ٹوبہ ٹیک سنگھ کا پچھلے کئی ادوار سے پنجاب کے صوبائی بجٹ میں حصہ راجن پور سے بھی کم ہوتا ہے؟
اور پھر بھی اس شہر سے نا تو محرومی کے بین ڈالے گئے اور نا ہی حقوق سلبی کے کیرنے سنننے کو ملے، پنجاب میں بلوچستان کی کل آبادی سے زیادہ بلوچ آباد ہیں جی جی وہی بلوچ جو آج کل پنجاب کا گلا کاٹنے کے لیے سب سے آگے ہیں، پنجاب ہی میں سعودی عرب اور ایران و عراق سے زیادہ قریشی،اعوان، عباسی، سادات بیٹھے ہیں اور انکے قبضے میں جو پنجاب کی زمینیں ہیں انکا تو ماشاءاللہ سے اندازہ لگانا بھی ناممکن ہے کیونکہ ان کے پاس مقدس ہونے کی امیونٹی ہے، اس بھوکے ننگے پنجاب کی بجائے یہ عرب و بلوچ بلوچستان یا سرحد میں کیوں آباد نہیں؟ بھئی سرحد کے خشک میوے اور بلوچستان کی گیس کے مزے اُٹھاتے اس بھوکے ننگے پنجاب میں بسنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی؟ میانوالی کے پٹھان خود کو نیازی کہتے ہیں یعنے افغانستان کے نیازآباد سے پنجاب آکر بسنے والے لیکن آجکل سرحد کے قوم پرست میانوالی کو افغانستان کا علاقہ ثابت کررہے ہیں عجب بات ہے کہ افغانستان پنجاب تک پہنچ گیا اور اگر پی ٹی آئی کی حکومت دس بارہ سال اور رہ گئی تو شاید لاہور بھی افغانستان کا پانچ ہزار سال پرانا شہر ثابت کردیا جائے، لیکن پنجاب کے پاس کُچھ ہے تو بتاؤ؟
ان چھوٹے دل کے بخیل و لالچی الفطرت لوگوں کی عجیب منطقیں سُنتا ہوں، اخے پنجاب کے پاس تو سمندر تک نہیں ہے تو بھائی کس نے کہا تھا برصغیر توڑ کر پاکستان بناؤ؟ سندھ کا ساحل اپنے سر پر اٹھاتے الگ ہوجاتے اور پنجاب کو برصغیر میں ہی رہنے دیتے پھر پنجابی خود ہی پنجاب کی تجارت ممبئی کے ذریعے کرتے یا باقی کسی بندرگاہ کے ذریعے کرتے تم نے یہ کشٹ کیوں اُٹھایا؟ پھر اور بات یہ ہے کہ اگر پنجاب کے پاس سمندر نہیں تو سندھ کے پاس دریا نہیں ہاں نا سندھ میں پنجاب سے جانے والا دریائے سندھو پنجاب سے ہی بہہ کر تو جاتا ہے جس اصول پر بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اسی اصول پر اگر سندھ اور پنجاب اس پاکستان نامی فیڈریشن میں اکٹھے نا ہوں تو پنجاب بھی دریائے سندھو کا پانی روک سکتا ہے، یہ بات سندھی قوم پرست کیوں بھول جاتے ہیں؟ کہ انکے صوبے کی واحد لائف لائن دریائے سندھو پنجاب سے آتا ہے، یہی بات جب میں نے عالم رویا میں جے ایم سید اور حاکم علی زرداری سے کہی تو انہوں نے جواب دیا کہ اسی لیے تو ہمارے بچے پنجاب توڑنا چاہتے ہیں تاکہ دریائے سندھو کامل طور پر نا صحیح تو کم از کم میانوالی تک تو ہمارے ہاتھ آجائے اور جھنگ بھی حاصل کرلیا جائے تو باغ بہاریں اور گلزاریں سب ہمارے ہی ہاتھ میں ہوں گی، میانوالی سے یاد آیا بھئی یہ میانوالی کب سے پنجاب کے جنوب میں چلا گیا؟ یہ تو پنجاب کے مغرب میں ہوا کرتا تھا؟ نہیں تو یہ آئین سٹائن کے بچے تو اٹک پر بھی دھاک لگائے بیٹھے ہیں بھائی یہ اٹک بھی جنوبی پنجاب میں کھسک گیا ہے کیا؟
جنوبی پنجاب محروم ہے بالکل شدید محروم ہے لیکن کس چیز سے؟ سندھ کی لاقانونیت و افلاس سے؟ بلوچستان کے سرداری نظام سے؟ یا سرحد کی اسلحہ گردی و بلیک میلنگ ٹرکس سے؟ لیکن میرے سمیت پی ٹی آئی کی ڈگڈگی کو ماضی میں پسند کرنے والے سبھی پنجابیوں نے شاید یہی سوچا تھا کہ بزدار جیسے فارغ البال انسان کو شاید جنوبی پنجاب کی محرومی ختم کرنے کے لیے ہی لایا گیا ہے، حالانکہ جس دن ❞تحریک بکواس❝ نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کیا میں نے سوشل میڈیا پر شدید احتجاج کیا تھا کہ اس کُگھو گھوڑے کو پاکستان کا سب سے اہم صوبہ مت سنبھالو یہ اس قابل نہیں، یہ بات اس بنا پر نہیں کی تھی کہ وہ راجن پور سے ہے بلکہ اس بنا پر کی تھی کہ وہ کونسلر لیول کا بندہ ہے اور پھر پنجاب کا وزیراعلیٰ بارڈر ایریا کے کسی بلوچی سپیکنگ بلوچ کو بنانا پنجاب دوستی نہیں بلکہ پنجاب دشمنی ہے،
لیکن انصافیوں نے بحث مباحثوں میں مجھے یہ باور کروایا کہ عمران خان کی گُپت وِدھیا (مخفی علوم) نے اسے بزدار کی وہ پوشیدہ صلاحتیں دکھائیں ہوں گے جو چند ہی ماہ میں پورا پنجاب دیکھ لے گا، خیر یہ بندہ شاید پنجاب کو برباد کرنے کے لیے لایا گیا تھا لیکن یقین جانیں عثمان بزدار کا ایک فیصد بھی قصور نہیں یہ قصور عمران خان کا ہے کہ جو بندہ ایک ضلع صحیح سے نہیں چلا سکتا اسکے ہاتھ ساٹھ فیصد پاکستان دے دیا ،لیکن ایک منٹ کو شیطانی وسوسوں کی سنیں تو ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے عثمان بزدار کو صرف اس لیے پنجاب کا وزیراعلیٰ لگایا کہ چونکہ اس بندے سے صوبہ چل نا پائے گا اور پنجاب میں ترقیاتی کاموں کا لاک ڈاؤن ہوجائے گا اس لیے پنجاب کے جنوبی اضلاع کی عوام کو یہ کہہ کر رونا ڈال دیں گے کہ دیکھو پنجاب نے ایک سرائیکی وزیراعلیٰ کو قبول نہیں کیا اور اسے کام نہیں کرنے دیا ، نہیں نہیں بھئی ہم تو علیحدہ ہی ہوں، یار وہ شاہ محمود قریشی کون بندہ ہے جگا بدمعاش یا بھارتی ریاست ممبئی یا گجرات کو کوئی وزیر ہے؟ ہم تو سمجھے تھے وفاقی وزیر وفاقی سطح کی سوچ رکھتے ہیں لیکن یہ وزیر تو لسانی تعصب اور سرعام پنجابیوں کو دھمکیاں دینے کی سوچ رکھتا ہے،
یہ وہی ہیں نا جن کے پاس ملتان قبل از آزادی سے ہے ؟ لیکن بہاؤالدین زکریا مُلتانی سے تو انکا کوئی خونی رشتہ تک نہیں، خیر برطانیہ کے وفاداروں پر کیا بات کرنی؟ برطانیہ کے وفاداروں سے یاد آیا ایک نواب آف بہاولپور نام کے محسنِ پاکستان گُزرے ہیں جو نسلاً عربی النسل تھے لیکن انکی ریاست پنجاب اور راجستھان کے درمیان ایسے پھنسی ہوئی تھے جیسے بکری کی دو ٹانگوں کے درمیان تھن پھنسے ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں اس نواب کا پاکستان پر بڑا احسان تھا کیونکہ اس نے چولستان کے ریگستان والی عظیم و امیر ریاست بہاولپور پاکستان میں شامل کردی تھی، لیکن ایک منٹ کو بتاؤ اگر وہ پاکستان میں اپنی ریاست شامل نا کرتا تو کیا کرتا؟ آزاد رہتا؟ یا بھارت میں شامل ہوجاتا؟ کیا اُس کی فوج کشمیر کے ڈوگرا راجے سے بڑی تھی؟ یا حیدرآباد دکن کے نظام سے بڑی تھی؟ نہیں اسکی ریاست پنجاب کے وسائل کے سامنے ایک مونگ پھلی کے دانے کے برابر تھی اور کشمیر کے ڈوگرا راجے اور حیدرآباد کے نظام کی فوج کے آگے اسکی فوج کُچھ نا تھی لیکن پھر تاریخ نے دیکھا کہ پاکستان نے ڈوگرا راجہ سے کیسے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر چھینا اور بھارت نے کیسے حیدرآباد سمیت ستّر بڑی ریاستیں بزورِ شمشیر خود میں ضم کرلیں،
لیکن دھن دھن ہیں بہاولپور کے نواب کے انہوں نے آزادی سے قبل تو ساری زندگی برطانیہ کے لیے لوکل غنڈے کا کردار نبھایا اور برطانیہ سے ایک لاکھ روپے وظیفہ ماہانہ اور اکیس توپوں کی سلامی وصول کرتے رہے، برطانیہ کی پنجاب میں جنگی مہمات میں اسکا بازو بن کر کام کرکے پنجابیوں کا بے بہا استحصال کیا لیکن پاکستان بنتے ہی اپنی ریاست پاکستان میں شامل کردی اور جس خاندان کو انگریز بہادر نے پنجاب سے کروڑوں لوٹنے کی کھلی چُھٹی دی تھی اس نے چند لاکھ روپے پاکستان بننے کے بعد تنخواہوں مد میں دیے اور مسلم لیگیوں کے ابو کا خطاب حاصل کرلیا، نہیں ایک منٹ، ایک سوال یہ بھی ہے کہ نواب کا کیا حشر ہوتا اگر وہ پاکستان سے الحاق نا کرتا؟ پہلی بات تو راجستھان اس نواب سے ریاست چھینتا کیونکہ قلعہ دیرآور جیسلمیر کے رائے ججہ بھٹی نے بنایا اور یہ اسی کی زمین تھی دوسری بات نواب نے جو آج تک امیونٹی حاصل کی ہوئی ہے وہ آزادی کے دوسرے دن ہی اس سے چھن جاتی اور اگر مسلمانوں کو جوش آجاتا تو وہ اس ریاست کو بھارت میں شامل کرنے کے جرم میں شاید اس نواب کی نور محل کو کالک محل میں بدل دیتے ،
کیونکہ برصغیر میں بہاولپور سے کئی ہزار گنا بڑی ریاستیں اپنا وجود تقسیم ہند کے بعد قائم نہیں رکھ سکیں یہاں صرف دو ہی ملک ہیں پاکستان اور انڈیا ورنہ موجودہ انڈیا نے ستّر بڑی اور دو سو سے زیادہ چھوٹی ریاستیں بزورِ شمشیر ہی قبض کی ہیں اور وہ اس پر معذرت خواہانہ پوزیشن نہیں لیتے کانگریس کا تقسیم ہند سے پہلے اعلان تھا کہ ہم ہندوستان کی آزادی کے بعد تاناشاہی ختم کردیں گے اور اس نے ایسا ہی کیا اور اس کی رائے بہت ویلڈ تھی کہ جن ریاستوں نے برطانیہ کے ساتھ مل کر عوام پر ظلم کیا ان کو اب راج کا کوئی حق نہیں اور ان نوابوں اور راجاؤں کے قبضے میں موجود ریاستیں بزورِ شمشیر واپس لیں گے
جبکہ مسلم لیگ جس میں بیشتر نواب ہی تھے اسکا اعلان تھا کہ جان چلی جائے لیکن نوابوں کی نوابیاں ضرور بچائیں گے تبھی تو مسلم لیگ نے پنجاب تو کٹوا دیا لیکن سوائے جوناگڑھ کے کوئی بھی مسلم ریاست ہندوستان میں حاصل نا کرسکی کیونکہ اصل مقصد تو وہ قانون آزادی ہند منظور کروانا تھا جو انہیں برطانیہ کے جانے کے بعد پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ گئے بنا آزاد رہنے کا حق دے، اور اگر بھارت ان ریاستوں پر قبضہ نا کرتا تو آج بھی ہندوستان میں دس بارہ چھوٹی بڑی ریاستیں مسلمان نوابوں کے قبضے میں ہوتیں مشرقی پنجاب میں ایک مسلم ریاست ملیر کوٹلہ تھی وہاں کے مسلمانوں نے مغربی پنجاب میں ہجرت نا کی اسی زعم میں کہ ہماری تو اپنی ریاست ہے بس پھر بھارت کے قبضے کے بعد اب وہ ریاست بھی نا رہی اور وہاں کے نواب بھی نا رہے اسی طرح پنجاب کی پتوڑی ریاست کے افغانی نواب سیف علی خان اسی خاندان کا چشم و چراغ ہے اس ریاست کے نوابوں نے بھی یو پی ،بہار، حیدرآباد، کے مسلمان نوابوں کی طرح یہ امید لگائی تھی کہ پنجاب چاہے قتل ہوگیا لیکن قانون آزادی ہند کی رو سے ہم تو قبل از برطانیہ والی پوزیشن میں آجائیں گے
اب ہم برطانیہ کے آگے سرجھکانے کی بجائے سینہ تان کر راج کریں گے ،لیکن بھارت کا یہ اقدام بہت کمال کا تھا کہ تمام ریاستوں کے نوابوں سے انکی ریاستیں چھینیں اور انہیں نوکریاں دے کر بابو بنا دیا، ورنہ موجودہ بھارت کا نقشہ ایک ملک نہیں بلکہ سات سو چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل کثیر الملکی براعظم جیسا ہوتا، لیکن کیا وہ بھارت جس نے سات سو چھوٹی بڑی ریاستیں خود میں ضم کیں وہ مشرقی پنجاب اور راجستھان کے بارڈر کے ساتھ لگنے والی ریاست بہاولپور ایسے ہی چھوڑ دیتا؟ یقیناً نہیں،
اسی تذکرے سے دماغ میں ایک اور ریاست کی کہانی آئی ہے چلیں سُنا دیتا ہوں موجودہ سندھ میں ایک ریاست امرکوٹ نام کی ہے یہ ہندو سوڈا راجپوتوں کی ریاست ہے جسکا اس ریاست کے موجودہ رانا ہمیر سنگھ کے والد نے تقسیم کے وقت پاکستان سے الحاق کردیا تھا یہ پاکستان کی واحد ہندو ریاست ہے اچھا ایک مزیدار بات یہ ہے کہ اس ریاست کے ساتھ ہی راجستھان لگتا ہے اور اس ریاست کی اکثریت ہندو سوڈا راجپوتوں پر مشتمل ہے لیکن اُس وقت کے نواب آف امرکوٹ نے اس ریاست کو ہندو مُلک بھارت میں شامل کرنے کی بجائے مسلم مُلک پاکستان میں شامل کردیا کیسا غیر فطری قدم تھا یعنی یہ عجیب بات ہے کہ رانا آف امرکوٹ خود بھی مسلم لیگی تھے اور اپنی ہندو اکثریتی ریاست بھی پاکستان کو دے دی، اچھا اس بندے کا نام بھی کم ہی ذکر ہوتا ہے کیونکہ ایک تو یہ مذہب کے ہندو دوئم اس دو قومی نظریے والے مُلک میں ہندوؤں کو ہم کتنی اہمیت دیتے ہیں وہ سبھی جانتے ہیں،
اس ریاست امرکوٹ کی تاریخ کی دو مزید خاص باتیں ہیں جو تاریخ کے طالب علم جانتے ہوں گے، ایک تو یہ کہ جب شیر شاہ سُوری نے ہمایوں سے تخت دہلی چھین لیا اور ہمایوں اپنی حاملہ بیوی کے ہمراہ صرف ایک اونٹ اور چار گُھڑ سواروں کے ساتھ سندھ کے مسلم حکمران کے پاس پناہ لینے پہنچا تو سندھ کے حکمران نے اسے دہلی تخت کے ڈر سے پناہ نا دی اسی کسمپرسی میں ہمایوں امرکوٹ کے رانا کے پاس پہنچا اور اسے امرکوٹ کے قلعے میں پناہ دے دی گئی اور ایسے اکبر کی پیدائش امرکوٹ میں ہوئی، دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب موجودہ پیرپگاڑا کے دادا نے برطانیہ کے خلاف حُر تحریک شروع کی تو برطانیہ نے اپنے وفادار سندھی نوابوں کی مدد سے حُروں پر زمین تنگ کردی اور پیر پگاڑا کو فرار ہونا پڑا اور ریاست امرکوٹ کے رانا نے انہیں پناہ دی،
خیر ہمارے ہیرو تو نواب آف بہاولپور ہی ہوسکتے ہیں جنہوں نے مُلتان میں برطانیہ کے سپاہی کی حیثیت سے ملتانیوں کا قتل عام کیا یا پھر ہمارے ہیرو ٹوانے راجپوت ہوسکتے ہیں جنہوں نے ستاون کی جنگ آزادی میں سرگودھا میں ڈُھنڈ راجپوتوں کی بغاوت کو کُچل کر برطانیہ سے لاکھوں ایکڑ زمین لی یا پھر ہمارے ہیرو ڈیرہ غازی خان کے بلوچ سردار ہوسکتے ہیں جنکی ستاون کی جنگ آزادی میں خدمات کا اعتراف انگریز نے بڑی گرمجوشی سے کیا، یہ شاہ لفظ میں بھی بڑا طلسم ہے تبھی تو تاج برطانیہ کے کرائے کے قاتل شاہ محمود قریشی کے اجداد ہزاروں ملتانیوں کے قتل اور ستاون کی جنگ آزادی کے ہیرو رائے احمد کھرل کو شہید کروا کر بھی پاکستان کے وزیر خارجہ لگے ہوئے ہیں اور پھر بھی انکی محرومی دور نہیں ہورہی، کہتے ہیں شاہ محمود کے سارے مرید سندھ سے ہیں ، لیکن پنجاب میں اسکے مرید کیوں نہیں؟ چراغ کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے ورنہ ایسی عظیم روحانی ہستی کو پنجاب نے اپنا پیر و مُرشد کیوں نہیں مانا یا شاید پنجاب کے باشندے اسکے اجداد کی مقامیوں کے خلاف غداریاں جانتے ہیں؟
یار دیکھو باپ حرامی ہو تو ضروری تو نہیں بیٹا بھی حرامی ہی ہو؟ لیکن ولی خان کا بیٹا اسفند یار ،اور مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمان تو اپنے باپ پر ہی ہے؟ دیکھیں جناب سکندر مرزا اگر میر جعفر کی اولاد تھے تو کیا ہوا؟ تھے تو وہ ایوب خان کے ہینڈلر اور نواب لیاقت علی خان منڈل کے دوست ہی نا؟ لیکن برطانوی دور کا ہر مسلم نواب پاکستان کا حامی کیوں تھا؟ اسلام کی وجہ سے؟ ہاں ہاں بالکل اسلام کی وجہ سے، ایک ریاست قلات بھی تھی برطانیہ اس ریاست کے نوابوں پر بھی اتنا فریفتہ تھا کہ اس ریاست کے نواب برطانوی افیسروں کی بگیاں گھوڑوں کی بجائے خود کھینچتے کیونکہ یہ انکا انگریز بہادر کے ساتھ محبت کا ثبوت تھا انگریزوں نے ستاون کی جنگ آزادی کچلنے اور بعد میں افغانستان کے خلاف مہم میں جیسے نواب آف بہاولپور کو ایک لاکھ روپے کی پینشن لگائی اسی طرح تحفے کے طور پر ڈیرہ غازی خان اور راجن پور نواب آف قلات کو چند سال کے لیے دے دیا لیکن پھر برطانیہ بہادر کو کُچھ اور سوجھی اور اسنے رند، گورچانی، دریشک، مزاری بلوچ سرداروں سے مشورہ کرکے خان آف قلات سے یہ واپس لے لیا ، لیکن کیا پھر قلات ریاست بھی بحال کی جارہی ہے؟
نہیں کیونکہ وہ تو پاکستان کے ساتھ بھی رہنا نہیں چاہتے ، لیکن یہ اصول کیسا ہے؟ فلاں ریاست تھی اور آزاد ریاست تھی ، یعنی کیا چالاکی ہے بھئی؟ آپ کو پرِنسلی سٹیٹ اور آزاد ریاست کا فرق بھی معلوم نہیں ہے؟ ہندوستان میں سینکڑوں پرنسلی سٹیٹس تھیں یعنی تاج برطانیہ کی بلواسطہ ریاستیں اور تاج برطانیہ کا بلاواسطہ انڈیا، مطلب جہاں برطانیہ براہ راست حکومت کرتا تھا اور وائسرائے کا حکم براہ راست اپلائی ہوتا تھا وہ برٹش انڈیا اور جہاں تاج برطانیہ کی حکومت بلواسطہ تھی یعنی پرنسلی سٹیٹس وہاں دیوان یا پرائم منسٹر برطانوی سرکار مقرر کرتی تھی اور ٹیکس کلیکشن سے لے کر تھانہ کچہری کرنسی فوج سب انتظام بھی تاج برطانیہ کے ہاتھ میں ہوتا لیکن اس ریاست میں تخت پر ایک کٹ پُتلی نواب بٹھایا جاتا جس کا کام تاج کی جی حضوری اور جنگی مہموں کی تاج کو فوجی رسد بہم پہنچانا ہوتا تھا،
پھر جو فیوڈل اور وار لارڈ جتنا سکور بناتا اسے اتنی مراعات دی جاتیں پنجاب میں سب سے زیادہ سکور بہاولپور، جموں، اور پٹیالہ کا تھا یہ وہ تین بدمعاش تھے جو تاج کے ایک اشارے پر کسی بھی پنجابی کی گردن مار دیتے ان سب کے کارنامے تاجِ برطانیہ ان سبھی کی زندگی میں لکھ گیا ہے، خیر پنجاب میں کُچھ اور بھی تھے جن میں مزاری، لاشاری،دریشک، رند، گورچانی، ملتان کے شاہ، سرگودھے کے ٹوانے، واہ کے حیات، سکھیرے، نون، سرحد کے بیشتر پشتون قبائل، برطانوی راج کے مضبوط ترین قوتِ بازو کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن بات پھر وہیں کی وہیں کھڑی ہے کہ پنجاب کے پاس ہے کیا؟
رانا علی کے وال سے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں