نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امن- 21 نے پاکستان کو سلامتی کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی کاوش کا مرکزی کردار بنا دیا

کراچی – پاکستان کراچی کے ساحل سے کچھ دور بحیرہٴ عرب میں 11 تا 16 فروری کثیر ملکی بحری مشقوں کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔

پاک بحریہ کے ایک ترجمان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن- 21 مشقوں میں شریک ممالک "امن کے لیے یکجا" کے مرکزی خیال کے تحت تعاون کریں گے۔

انہوں نے کہا، "بحری مشق منظم کرنے کا بنیادی مقصد، قیامِ امن اور خطے میں استحکام اور جوابی کاروائی کی استعداد میں بہتری ہے۔ یہ مشقیں شریک ممالک کو یکجا ہونے اور اپنے تعلقات بڑھانے کے لیے معاون ہیں۔"

پاکستان کے بیڑے کے کمانڈر ریئر ایڈمرل نوید اشرف نے پیر (8 فروری) کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ مشق علاقائی امن و استحکام، بحری عملداری میں دہشتگردی کے خلاف عہد، اور ایک محفوظ اور مستحکم بحری علاقہٴ عملداری برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔

image


image


انہوں نے کہا کہ سب سے بڑھ کر یہ خطے اور خطے سے باہر، کی بحری افواج کے مابین مل کر کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔

تعاون کی طویل روایت

امن- 21 مشقوں کی میزبانی سے سمندروں کی نگرانی میں بحری افواج کی معاونت کے لیے پاکستان کے کئی برسوں کے کام کو تسلسل ملتا ہے۔

2019 کے نومبر میں خلیج اومان میں پاک بحریہ نے انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسرسائز 2019 میں شرکت کی۔

امریکی وزارتِ دفاع نے اس وقت کہا کہ اس مشق کا مقصد "علاقائی سلامتی و استحکام کو برقرار رکھنے، بحری سفر کی آزادی اور جنوب میں نہر سوئیز سے براستہ آبنائے ہرمز باب المندیب اور شمالی خلیج عرب تک تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے لیے عالمی عزم کا مظاہرہ ہے۔"

امریکہ کی زیرِ قیادت، 33 ممالک کے ایک اتحاد، کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (سی ایم ایف)، جس کا مقصد "کھلے سمندروں میں غیر قانونی غیر ریاستی عناصر کی انسداد کرتے ہوئے ۔۔۔ بین الاقوامی اصولوں پر مبنی حکمرانی قائم کرنا ہے"، کی ویب سائیٹ کے مطابق، پاکستان نے 2004 میں سی ایم ایف میں شمولیت اختیار کی۔

سی ایم ایف "بین الاقوامی پانیوں کے قریباً 32 لاکھ مربع میل علاقہ" کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور اس کا صدر دفتر بحرین میں امریکی بحری چھاؤنی میں ہے۔

پاکستان سی ایم ایف کی تین میں سے دو ٹاسک فورسز میں شرکت کرتا ہے: سی ٹی ایف 150 جو خلیج سے باہر بحری سلامتی کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اور سی ٹی ایف 151، جو بحری رہزنی سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

ان ٹاسک فورسز کی کمان ہر چار سے چھ ماہ میں بدلتی ہے۔ پاک بحریہ نے متعدد بار ہر ٹاسک فورس کی کمان سنبھالی ہے۔

امن مشقوں کی نشوونما

2007 سے اب تک پاکستان ہر دوسرے برس امن مشقوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

2017 کی مشقوں میں 37 ممالک شامل تھے اس میں جنگی بحری بیڑوں، ہیلی کاپٹروں اور دیگر جہازوں سے مشقیں شامل تھیں، جبکہ سپیشل آپریشن فورسز توپیں اور گہرائی میں وار کرنے والے اسلحہ (آبدوز شکن جنگی ہتھیار) چلانے جیسی بحری سرگرمیوں میں مصروفِ عمل رہیں۔

امن- 17 کے دوران بحری اور سیکیورٹی عملہ نے ایک دوسرے سے بحری رہزنی اور دہشتگردی کے خلاف لڑنے اور بحری سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے نئی تکنیکیں سیکھی۔

فروری 2019 میں چھیالیس بحری افواج نے امن- 19 میں شرکت کی۔ ڈیفنس نیوز نے خبر دی کہ ان افواج نے مل کر"سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بحرِ ہند" میں مشقیں کیں۔

اشرف نے کہا کہ رواں برس اس مشق میں سطح و فضا میں مار کرنے والے اثاثہ جات، سپیشل آپریشن فورسز، اور بحری ٹیموں اور مشاہدین کے ساتھ تقریباً 45 ممالک شرکت کریں گے۔

امن- 21 کے دو مراحل ہیں: بندرگاہ پر اور سمندر میں۔

انہوں نے کہا، "بندرگاہ کی سرگرمیوں میں سمینار، مباحثے، نمائشں اور بین الاقوامی اجتماعات شامل ہوں گے، جبکہ سمندر کے مرحلہ میں "انسدادِ بحری رہزنی، انسدادِ دہشتگردی، توپ چلانے اور تلاش اور بچاؤ کے مشنز میں تذویری داؤپیچ شامل ہوں گے"۔

تعاونِ باہمی کے ساتھ بحری سلامتی

مشاہدین کے مطابق، امن مشقوں کے آغاز ہی سے شرکت کرنے والے ممالک میں تیزی سے اضافہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کی ستائش ظاہر ہوتی ہے۔

2007 کی مشقوں میں اٹھائیس ممالک نے شرکت کی، جبکہ رواں برس 45 ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے ایک کراچی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر، سلیم صدیقی نے کہا، "امن مشقوں میں شرکاء کی تعداد میں اضافہ بحرِ ہند کے علاقہ میں بحری سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے جاری علاقائی اور بین الاقوامی اقدامات کی حمایت کے لیے ۔۔۔ خطہ کے ممالک کے جوش و ولولہ کا مظاہرہ ہے"۔

انہوں نے کہا، "شریک ممالک کے بحری عملہ کے مابین تجربات اور مہارتوں کا تبادلہ زیادہ جہازرانی والے علاقوں میں بحری رہزنی کے خدشہ کے خاتمہ کے لیے معاون ہے۔"

بین الاقوامی ایوانِ تجارت کے ساتھ منسلک ایک عالمی بحری ادارے انٹرنیشنل میری ٹایم بیورو (آئی ایم بی) کے مطابق،2020 میں بحری جہازوں پر ہونے والے بحری رہزنی کے حملوں میں 2019 کے مقابلہ میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔

آئی ایم بی نے 2019 میں بحری جہازوں کو ہدف بنانے والے بحری رہزنی اور ڈکیتی کے 162 واقعات کے مقابلہ میں 2020 میں 195 واقعات کی اطلاع دی۔

ریئر ایڈمرل اشرف نے کہا، "پاکستان ان گنت قربانیوں اور نقصانات کے ساتھ دہشت اور استبداد کی قوتوں سے لڑنے میں ثابت قدم رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "کوئی بھی ملک تنہا پہلے سے موجود متنوع خدشات یا روزانہ کی بنیاد پر نئے آنے والے خدشات سے نہیں نمٹ سکتا۔ لہٰذا اتحادی بحری سلامتی خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے محور بن چکی ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...