نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

عورت براے فروخت

              تحریر۔۔۔عورت_برائے_فروخت


وہ شکل سے شریف گھر کی بیٹی لگ رہی تھی میں پاس گیا 

میرے قریب ہو کر بولی 

چلو گے صاحب 

میں نے پوچھا کتبے پیسے لو گی 

کہنے لگی آپ کتنے دیں گے 

میں نے اس کی نیلی سی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا 

وہ بے بس سی تھی میں نے بولا آو کار میں بیٹھو  

وہ ڈر رہی تھی 

کہنے لگی کتنے آدمی ہو میں نے کہا  ڈرو  نہیں 

میں اکیلا ہی ہوں

وہ خاموش بیٹھی رہی 

پھر کہنے لگی آپ مجھے سگریٹ سے اذیت تو نہیں دو گے نا 

میں مسکرایا بلکل بھی نہیں 

پھر اس نے ایک لمبی سانس بھری 

آپ میرے ساتھ کوئی ظلم تو نہیں کریں گے نا 

آپ چاہے مجھے 500 کم دے دینا لیکن میرے ساتھ برا  نہ کرنا پلیز 

وہ بہت خوبصورت تھی معصومیت اس کی باتوں سے ٹپک رہی تھی 

پھر بھی خدا جانے وہ کیوں جسم بیچنے پہ مجبور تھی 

وہ نہیں جانتی تھی میں کون  ہوں 

میں نے پوچھا کھانا کھایا ہے کہنے لگی نہیں 

میں ہوٹل کے سامنے کار رکی ہوٹل والا مجھے جانتا تھا 

اس نے جلدی سے کھانا پیک کیا مجھے دیا 

میں کار میں بیٹھ گیا آ کر 

میں اپنے آفس کی طرف چل دیا 

چوکیدار نے دروازہ کھولا میں کار پارک کی 

رات کے 11 بج رہے تھے سب اپنااپنا کام کر رہے تھے

وہ مسلسل میری طرف دیکھے جا رہی تھی 

میں نے کھانا پلیٹ میں ڈالا 

اسے کہا ہاتھ دھو لو 

وہ کہنے لگی میں نے نہیں کھانا 

میں نے پیار سے کہا ڈرو  نہیں کچھ نہیں ہو گا 

وہ ہاتھ دھو کر آئی 

میرے سامنے کرسی پہ بیٹھ گئی اور کھانا کھانے لگی 

جب کھانا کھا لیا تو کچھ کھانا بچ گیا کہنے لگی یہ میں گھر لے جا سکتی ہوں میں مسکرایا بلکل بھی نہیں 

وہ چپ ہو گئی برقع اتارنے  لگی میں نے کہا رک جائیں 

میرے پاس آ کر بیٹھ جائیں 

وہ حیران تھی 

میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی جلدی سے اہنا کام کریں مجھے واپس چھوڑ آئیں 

میں نے کہا نہیں  پوچھوں گا کیوں کرتی ہو ایسا 

کیوں بیچتی ہو جسم 

بس اتنا کہوں گا چھوڑ سکتی  ہو کیا یہ سب 

وہ میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی آپ پاگل لگ رہیں مجھے 

میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا 

ہاں پاگل ہی ہوں میں 

سب پاگل ہی سمجھتے ہیں مجھے 

وہ کہنے لگی اگر کچھ کرنا  نہیں  ہے تو مجھے واپس چھوڑ کر آو 

میں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا 

پھر پرس سے 30k نکالے اس کے ہاتھ پہ رکھے 

وہ حیران تھی کہنے لگی میں نے نہیں لینے 

آپ کیوں دے رہے ہیں یہ پیسے مجھے 

میں نے اس کے چہرے پہ ایک تھکن محسوس کی تھی 

وہ اپنے آنسو روکے بیٹھی تھی 

بار بار کہہ رہی تھی مجھے بس واپس چھوڑ  کر آو 

مجھے ڈر لگ رہا ہے

میں  نے اسے یقین دلایا ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے 

اچھا بتاو نا بہت درد دیا نا زندگی نے 

یہ سننا تھا 

اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں 

جیسے کوئی قیامت گر گئی ہو اس پہ 

میں سمجھ چکا تھا کوئی بہت بڑا درد لیئے گھوم رہی ہے دروازہ کھولا کانپتی آواز میں بولی مجھے چھوڑ کر آو واپس

میں نے اسے بیٹھنے کا کہا 

بتایا میرا نام نعمان راجپوت ہے ڈرو نہیں 

خود کو محفوظ سمجھو 

اسے جب یقین ہو گیا پریشانی والی کوئی بات نہیں تو 

بتانے لگی 

شوہر مر گیا تین بیٹیاں ہیں 

سسرال والوں نے نکال دیا 

ماں باپ فوت ہو چکے ہیں بھائی کوئی ہے نہیں ماموں کے گھر آئی 

ماموں کے بیٹے نے میرے ساتھ زیادتی کی 

میں نے جب مامی کو بتایا تو سب نے مجھے غلط کہا 

مجھے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا 

دور کے رشتہ دار نے ایک بڈھے سے میری شادی کروائی اس کے بھی بچے تھے 

اس کے بچوں نے مجھے بہت ذلیل کیا 

پھر وہ شوہر بھی فوت ہو گیا 

بیٹیوں کو لیئے در بدر لیئے بھٹکنے  لگی 

  نہ چھت تھی نہ روٹی تھی 

بھوک افلاس تھی

سڑک پہ کھڑی تھی ایک صاحب آئے کہنے لگے ایک گھنٹے کے 5 ہزار دوں گا 

نہ چاہتے ہوئے ماں کی ممتا حالات کی ستائی ہوئی کیا کرتی آخر چل دی 

اب ہر روز جسم بیچتی ہوں کرائے گا گھر لیا ہے بیٹیوں کو اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں 

کیا کروں بہت بار سوچا خود کشی کر لوں لیکن بیٹیوں کو دیکھ کر ہمت نہیں ہوتی 

وہ رو رہی تھی میں زمانے  کی بے حسی محسوس کر رہا تھا 

اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اس کہا نعمان تمہارا بھائی ہے آج سے 

تم اپنی بیٹیوں کو لو اور میرے آفس کے اوپر والے ایک روم میں رہو

وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی 

کار میں بٹھایا اس کے گھر پہنچا 

بیٹیاں سوئی ہوئی تھیں بہت پیاری تھیں 

گود میں اٹھایا دل کو سکون ملا 

وہ مسلسل روئے جا رہی تھی 

مجھے کہنے لگی آپ فرشتے ہیں 

آپ کون ہیں 

میں اسے اپنے آفس لے آیا 

وہ دعائیں دینے لگی جھولی اٹھا کر نہ جانے کتنی دعائیں دیتی رہی میں نے اسے کہا جا کر سو جائیں 

اپنے آفس روم میں گیا میرے سامنے سے وہ چہرہ گزرا جو ایک لڑکی اپنے شوہر سے جھگڑا رہی تھی 

اسے کہہ رہی تھی مجھے طلاق دو تم کو میری قدر ہی نہیں ہے وہ اپنا گھر جلا رہی تھی اپنی بے وقوفی کی وجہ سے 

وہ بیچاری کیا جانے زمانے کی تلخیاں کیا ہوتی ہیں 

زمانے کا ڈسنا کیا ہوتا ہے میں بتانا چاہتا تھا اپنا گھر جان بوجھ کر اجاڑنے والی لڑکیوں کو طلاقیں لینا آسان ہے اس کے بعد جینا موت ہے 

کبھی ساس کا رونا کبھی نند کا سیاپا کبھی جھٹانی سے لڑائی یہ ہر گھر کی بات ہے 

اس کا ہرگز مطلب طلاق لینا یا گھر اجاڑنا  نہیں ہے کم عمری میں ہی میرے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں ہزاروں آنکھوں کے آنسو دیکھ کر 

اپنے گھروں کو آباد رکھو 

خدا کی قسم ایک وقت آتا کے نا بھائی حال پوچھتے ہیں نا سگی بہنیں 

سب وقت کے ساتھ چہرے کے نقاب بدل لیتے ہیں 

نعمان ہر جگہ ہر کسی کو تھامنے کے لیئے کھڑا نہیں  ملے گا ہاں میری قلم شاید کسی کو بربادی سے پہلے بچا لے 

ہمسفر کیسا بھی ہے وہ تمہاری ڈھال ہے 

شادی کے بعد سگے بھائی سے خرچہ لینا بھی بھیگ مانگنے جیسا لگتا ہے 

میری باتیں وہ عورت سمجھ سکتی ہیں جس پہ ایسا کچھ گزرا یے 

ہمسفر جیسا بھی ہے وہ تمہارا لباس ہے یاد رکھنا زمانے کے لیئے تم صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہو 

وہ زمانے گزرے مدت ہوئی جب رشتوں کا پاس رکھا جاتا تھا 

اب رشتوں سے کھیلا جا سکتا ہے ہوس پوری کی جا سکتی ہے پھر پھینک دیا جاتا ہے 

ہاں قسمت میں لکھا ہم بدل نہیں  سکتے لیکن  قسمت خود لکھ بھی سکتے ہیں صبر برداشت اور جھک کر 

نہ جانے کتنی عورتیں صرف اس لیئے گھر اجاڑ لیتی ہیں کے اس کا شوہر اس کو ٹائم نہیں دیتا ہاں یہ شکوہ کرنا درست ہے لیکن کیا گارنٹی ہے اس کے بعد زندگی میں آنے والا اس سے بھی زیادہ برا  ہو 

صرف ایک زندگی ہے اس کو محبت پیار سمجھداری کے ساتھ گزار لو 

میں اس معاشرے کو معاشرہ نہیں کہتا بلکہ بدبودار سماج کہتا ہوں 

یہاں جگہ جگہ پہ لٹیرے کھڑے ہیں عزتوں کے خواہشوں کے بھرم کے بھروسے کے اعتبار کے... 

بس آخر پہ ایک بات کہوں گا 

اگر تم  کو پیٹ بھرنے کے لیئے چاردیواری سے باہر نہیں جانا پڑ رہا 

اگر تم کو جسم نہیں بیچنا پڑ رہا 

اگر تمہارے سر پہ چادر ہے 

اگر لوگ تمہارا سودا نہیں کرتے 

اگر لوگ تم کو وحشیہ نہیں کہتے 

اگر تمہارا دامن پاکیزہ ہے 

اگر تم رات کو محفوظ پناہ گاہ میں سوتی ہو تو 

نہ کرنا برباد اپنا  آشیانہ 

ورنہ روند دی جاو گی نوچ  لی جاو گی 

جو طلاق لیئے بیٹھی ہیں پوچھو ان سے 

وہ سوچ رہی ہوتی ہیں نہ جانے کتنے بچوں کے باپ کی ہمسفر بنوں گی 

نہ جانے وہ کیسا سلوک کرے گا 

اور پھر ساری زندگی یہ طعنہ سنتے گزر جاتی ہے اتنی ہی اچھی ہوتی تو طلاق کیوں لیتی 

خیر وہ لڑکی الحمداللہ محفوظ ہے لیکن وہ روتی ہے 

زمانے کی بے حسی پہ 

اور جانتے ہو کسی عورت  کی بربادی میں کہیں نہ کہیں مرد ہوتا ہے 

محبت کر کے چھوڑنے والا دعویدار ہو یا نکاح کر کے طلاق دینے والا بدبخت 

عورت خدا کی قسم میرے معاشرے کی زنجیروں میں جکڑی  ہوئی ایک قیدی ہے 

کبھی باپ کی پگڑی پہ لٹ گئی تو کبھی ساس کے زہر آلود لہجے پہ 

کبھی شوہر کی انا پہ خاک ہو گئی تو کبھی اولاد کی وجہ سے 

مرد اگر سمجھ جائیں میری اس تحریر کو تو شاید میرا معاشرہ بدل جائے 

ہاں کچھ عورتیں ہوتی ہیں بازارو جن کو جتنی بھی عزت دے دو وہ عزت کی چادر سے زیادہ بازار کی رونق بننا پسند کرتی ہیں پھر ایسی بدبخت عورتیں ایک بدبودار معاشرے کو جنم دیتی ہیں

Copyright

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...