نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کرپشن کا ناسور اور پاکستان

کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور معاشرے کو کھا جاتا ہے- ہم سب جانتے ہیں کہ اس موذی مرض نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے-

کرپشن آکاس بیل کی طرح سے ہے یعنی وہ زرد بیل جو درختوں کو جکڑ کر ان کی زندگی چوس لیتی ہے- یہ ایک ایسی لعنت ہے کہ اگر ایک بار یہ کسی معاشرہ پر آگرے تو ایک شاخ سے اگلی اور اگلی شاخ کو جکڑتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ زرد ویرانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا- یہاں تک کہ معاشرہ کی اخلاقی صحت کے محافظ مذہبی اور تعلیمی ادارے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہے-

کسی برائی کے خلاف جد وجہد کا انحصار معاشرہ کے اخلاقی معیاروں پر ہوتا ہے- اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کے ہم کس بات کو رد اور کس کو قبول کرتے ہیں- بد عنوانی کے رویوں کے ساتھ بدعنوانی کا مقابلہ ممکن نہیں- کوئی نگران اگر خود بد دیانت ہو تو لوٹ میں اپنا حصہ مانگ کر کرپشن میں معاونت کرتا ہے جس سے بربادی کا عمل اور گہرا ہو جاتا ہے-

مسلح افواج اور عدلیہ جنہیں معاشرہ اپنا خون پلا کر پالتا ہے تاکہ یہ مدافعتی نظام بن کر اسکی حفاظت کریں، وہ خود حملہ آور لٹیرے کے ساتھ مل جاتے ہیں- یوں جسم کے یہ دفاعی خلیے باہر سے آنے والے حملہ آور کا مقابلہ کرنے کی بجاے اپنے جسم پر حملہ کر دیتے ہیں، جس کی حفاظت کے لئے ان کو مامور کیا گیا تھا-

ہمارا معاملہ یوں ہے کہ کرپشن کسی جڑواں بچے کی طرح پاکستان کے بنتے ہی ساتھ آ گئی تھی- وہ لوگ جو آج معاشرہ میں امتیازی حیثیت کے مالک ہیں، پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تاریخ کو بڑی احتیاط سے چھپاتے ہیں- یہ لوگ کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات اور پیدائش پر بات نہیں کرتے- یہ پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا وہ افسوس ناک باب ہے جس میں ہماری کرپشن، موقع پرستی، مذہبی بلیک میل اور بے حسی کی جڑیں چھپی ہیں-

ہماری قیادت کو ان مسائل کا شائد کوئی تصور ہی نہ تھا جو ہمارے عوام کو تقسیم ہند کے وقت پیش آنے والے تھے- چنانچہ مہاجروں کی آباد کاری کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہ تھا- ہے‎

عین اس وقت جب ہمارے لہو میں نہاےہوئے مہاجر کیمپوں میں پڑے سڑ رہے تھے تو ملک کے طول و عرض میں ہندووں اور سکھوں کی متروکہ املاک کی لوٹ مار یوں جاری تھی جیسے عید کا تہوار ہو- چالاک موقع پرستوں کی چاندی ہو رہی تھی- لیڈر لوگ بحالیات کے دفتروں میں بیٹھے اپنے حصّوں کی سودے بازی کر رہے تھے- کیمپوں میں ہونے والے جنسی جرائم کی گندی کہانیاں بھی گردش میں تھیں- یہ سب کچھ پراپرٹی کلیم شروع ہونے سے پہلے کی بات ہے-

پھر پراپرٹی کلیم کی کہانی شروع ہوئی- لیکن پراپرٹی کلیم کیا تھا؟

بے شمار مسلم عوام تھے جنہوں نے اپنے اس نئے وطن پاکستان کے لئے ہندوستان سے ہجرت کی- ان میں بہت سے ایسے تھے جو بھارت میں اپنے گھر اور جائداد چھوڑ آے تھے- لیکن ان گنت ایسے بھی تھے جن کا وہاں کچھ بھی نہ تھا یا بہت معمولی تھا- گرچہ حقائق معلوم کرنے کا کوئی قابل اعتماد طریقه موجود نہ تھا پھر بھی ہر شخص کو یہ دعویٰ کرنے کا حق تھا کہ اسنے ہندوستان میں یہ چھوڑا اور وہ چھوڑا اور اسے پاکستان میں اس کے برابر ملنا چاھیئے- اس کا نام کلیم تھا- لیکن لوگ اپنا کلیم کیسے ثابت کرتے تھے؟ ظاہر ہے کسی کے پاس ملکیت کا کوئی کاغذ نہ تھا-

ایسی صورت حال میں جھوٹی کہانیوں کی گنجائش موجود تھی جس کی تصدیق کے لئے ذاتی گواہی کے سوا کچھ موجود نہ تھا- اور اسکی بھی کچھ ایسی مجبوری نہ تھی، کیونکہ کوئی "ہمدرد" افسر، تحریک پاکستان کا کوئی کارکن یا کوئی سیاسی رہنما آپ کا

کلیم منظور کر کے آپ کی تقدیر بدل سکتاتھااے‎

چنانچہ ہندووں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی شہری اور دیہی ملکیتیں، رہائشی اور کاروباری جائیدادیں، فضل ربی بن کر ایسے ایسے لوگوں کے ہاتھ لگیں جن کا کوئی استحقاق نہ تھا- سب سے زیادہ ننگے انداز میں یہ عمل صنعتی، تجارتی اور کاروباری شعبوں میں سر زد ہوا جہاں مسلمانوں کو کوئی تجربہ نہ تھا یا بہت کم تجربہ تھا- چنانچہ جو نیا کاروباری طبقہ پیدا ہوا اسے کاروبار کے اصولوں، اسکی اخلاقیات اور اسکے مزاج کے بارے میں تربیت دینے کا بھی کوئی انتظام نہ تھا -

برطانوی حکومت سے پہلے بر صغیر میں مسلمانوں کا مزاج بالعموم جاگیردارانہ اور زراعتی تھا، بعد کی صدیوں میں زیادہ تر وقت مسلمان مزاحمت اور علیحدگی کی تحریکوں میں رھے، صرف ایک محدود سا طبقہ سول سروس اور فوج میں شامل ہوا-

اس سارے دور میں مسلم خطیبوں اور ڈاکٹر اقبال جیسے شاعروں کے ولولہ انگیز پیغام نے ہمارے مجاہدانہ مزاج کو اور گہرا کر دیا- لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں میں جاگیردارای اور جنگی مزاج قائم رہا اور ایک حقیقی کاروباری طبقہ کے جمہوری مزاج کی کمی رہی-

بر صغیر میں مسلمان صدیوں سے ہندو کاروباری طبقہ کو حقارت سے "بنیا" کہتے آئے تھے، اور انھیں رئیس اور سپاہی ہونے پر فخر رہا تھا- لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں اور سول سروس کے لئے بالکل فطری تھا کہ وہ جاگیرداروں، جرنیلوں اور دینی علماء کو اپنے راہ نما مانتے-

زرعی رؤسا جن میں سے اکثر کرپشن کے موجد تھے، جنہوں نے خالص ذاتی مفادات کے لئے انگریز کی خدمات کی تھی، اس نئی سرزمین میں خوش اور محفوظ تھے کہ جہاں نہ تو زرعی اصلاحات کا خوف تھا نہ احتساب کا-

یہ تھی صورت حالات جس میں پرمٹ، لائسنس اور الاٹمنٹوں کا ہنگامہ شروع ہوا- جلد ہی امریکی امداد کا دھارا بھی بہنے لگا- اب اوپر کے طبقوں یعنی حکمرانیه کے لئے کھلا میدان تھا- آسان کمائی کی غلیظ دوڑ کا آغاز ہوا، جس نے "راتوں رات امیر" ہو جانے کے خواب ہماری نفسیات میں گوندھ ڈالے-

بعد کی ساری تاریخ کرپشن اور اقربا پروری کے افسانوں اور کہانیوں سے اٹی پڑی ہے- آج ہمیں حیرت ہوتی ہے کے آخر کرپشن کی شکایتیں کرنے اور ایک دوسرے پر فرد جرم عائد کرنے کا جواز کیا ہے- لیکن سچ یہ ہے کہ اس کا جواز موجود ہے- نرگسیت سے بھرے معاشرہ میں ایسا عمل فطری ہے- کیونکہ نرگسیت کے مریض کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنا جرم دوسروں پر ڈال دے-

پاکستان میں کرپشن صحت مندی کی علامت بن گئی ہے، ایک ایسا عمل جو ذہانت کا معیار ہے ، سماج میں موزوں ہونے کا ثبوت ہے- لیکن ساتھ ہی ساتھ کرپشن کو گالی دینا بھی اتنا ہی معیاری اور موزوں ہے- ہم میں سے ہر ایک کے پاس دوسرے کی کرپشن کے "ٹھوس" ثبوتوں کے ساتھ ایک فہرست موجود ہوتی ہے جس کے ساتھ ہی ویسی ہی "کامیابیوں" کی آرزو ہمارے دل میں مچلتی ہے-

عمل اور فکر کا یہ تضاد یعنی ہاتھ سے کرنے اور زبان سے کوسنے کا یہ عمل اس ریا کاری کو جنم دیتا ہے جو بد عملی کو دوام بخشتی ہے- ایک ایسا معاشرہ جو ایک شاندار دین پر ایمان رکھتا ہے لیکن جن اصولوں کی تعظیم کرتا ہے عمل میں ان کے مخالف چلتا ہے، اسے ضمیر کی آسودگی کے لئے کسی بڑی تسلی کی ضرورت پڑتی ہے- لہذا ہماری حکمرانیه نے معاشرہ کے لئے نمازوں اور حج کی رسوم پر مبنی نمائشی اسلام کو بڑھاوا دیا ہے - اس سے ہم اپنے ہر روز کے احساس ندامت کو دھو لیتے ہیں تاکہ ہر نئی صبح ہلکے پھلکے ہو کر پھر سے وہی کرنے نکلیں جو کل دھویا تھا-

کیا اس حالت سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟

ہاں، ہرنئی نسل بھلائی پر ایمان اورمعصوم جذبے لیکر پاکیزہ پیدا ہوتی ہے- یہ معاشرہ جس میں وزیر اعظم سے قاصد تک اور مل مالک سے دہاڑی دار معاون تک تقریباً ہر کوئی تر بہ تر ہے اور نچڑ رہا ہے، یہاں نئی نسل کی رہنمائی کے لئے شاید کوئی موجود نہیں- انھیں مستقبل کی تعمیر کے لئے بڑی توجہ سے اپنے رستے بنانا ہونگے-

اچھے معاشروں کا مطالعہ اور ذہانت سے پوچھے جانے والے سوال وہ اوزار ہیں جو راستہ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں- جمہوریت نئی نسل کو اپنا رول ادا کرنے کے لئے میدان مہیا کر سکتی ہے- ہمیں امید ہے نئی نسلیں سائنس اور تخلیق کی دنیا کے ساتھ جینے کا فیصلہ کریں گی جو ایسا واحد راستہ ہے جو کرپشن سے آزاد ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

انجیر کی کاشت

🥝🥝.. #انجیر .(Anjeer).🥝🥝 #پاکستان کی سر زمین پر تقریبا 18 ہزار من سالانہ انجیر پیدا ہوتا ہے, جبکہ یہاں سالانہ تقریباً 28 ہزار من انجیر کی مانگ ہوتی ہے.اسی لیے ہمیں اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے ترکی، ایران اور افغانستان سے سالانہ تقریباً 10 ہزار من خشک انجیر خرید کر پاکستان لانا پڑتا ہے. یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں انجیر اس قدر مہنگا ہے کہ عام آدمی اسے کھانے کے بارے سوچ ہی نہیں سکتا. انجیر کی فصل لگانے کے لئے دس/10 فٹ کے فاصلے پر قطاریں بنا کر اور ان قطاروں میں دس/10 فٹ کے فاصلے پر ہی پودے لگائے جاتے ہیں. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریباََ 435 پودے لگائے جاسکتے ہیں. یاد رہے کہ ایک دفعہ لگایا ہوا انجیر کا پودا 15 سے 20 سال تک بھر پور پیداوار دیتا ہے. نرسری میں انجیر کا ایک پودا تقریباََ 50 روپے میں مل جاتا ہے. اس طرح پودے لگانے کا فی ایکڑ خرچ تقریباََ 22 ہزار روپے ہو سکتا ہے. ایک پودا کم از کم 6 کلوگرام پیداوار دیتا ہے. اس طرح سے ایک ایکڑ سے تقریبا 2600 کلو یا 65 من تازہ انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے.اگر انجیر کو خشک کر لیا جائے تو تقریباََ 1430 کلو صافی خشک انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے.اب اگر انجیر...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

سورہ کوثر کے عددی معجزے

*سورۃ الکوثر میں عددی معجزے نے مجھے حیران کر رکھا ہے* سورۃ الکوثر قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اور اس سورۃ کے جملہ الفاظ 10 ہیں۔ قرآن بذات خود ایک معجزہ ہے لیکن جب سورۃ الکوثر کی پہلی آیت میں 10 حروف ہیں۔ – سورۃ الکوثر کی دوسری آیت میں 10 حروف ہیں۔ – سورۃ الکوثر کی تیسری آیت میں 10 حروف ہیں۔ – اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ‏…حرف “ا” الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے۔ – وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں انکی تعداد 10 ہیں۔ – اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف “ر” راء پر ہوا ہے جو کہ حروفِ ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔ – قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف “ر” راء پر اختتام پذیر ہو رہی ‏…ہیں، انکی تعداد 10 ہے جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے۔ سورت میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ ذو الحجہ کے مہینے کا 10واں دن ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ” فصل لربک وانحر” “پس نماز پڑھو اور قربانی کرو” وہ دراصل قربانی کا دن ہے اللہ کی شان کہ یہ ‏…سب کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ، جو ایک سطر پر مشتمل ہے، میں آگیا آپکا کیا خیال ہے بڑی سورتوں کے متعلق!!! ‏اللہ ت...