نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کامیاب بلاگ لکھنے اور بلاگنگ سے کمائی کرنے کی ٹپس

  کا شمار آن لائن پیسے کمانے کے پانچ حقیقی طریقوں میں کیا جاتا ہے۔آن لائن پیسے کمانے والوں کے لئے بلاگنگ ایک جائز اور موثر ترین طریقہ ہے جس کے لئے صبر ،مستقل مزاجی اور نظم و ضبط کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

بنیادی ضروریات.                             

٭صبر اس لئے کیونکہ لازمی نہیں کہ آپ کے بلاگ لکھتے ہی آپ کی ویب سائٹ پر لوگوں کا رش لگ جائے ، آپ کی آمدنی تب ہوگی جب آپ کی سائٹس پر لوگوں کا رش بڑھے گا۔تاہم اگر آپ اپنی سائٹس پر وزیٹر بڑھانےیا رش لگانے کی ترکیبوں کا علم رکھتے ہیں تو یہ دوسری بات ہے۔

٭مستقل مزاجی.                                   

 اس لئے کہ آپ کو مستقل لکھاری کے طور پر لکھنا پڑتا ہے۔ بلاگر کو اپنی تحریروں اور اپنے پیشے کی کامیابی کے لئے قاری کو اپنی تحریروں کا عادی بنانا پڑتا ہے ۔

٭گھریلوزندگی ہو یا معاشرتی زندگی، نظم و ضبط متوازن زندگی کا ناگزیر تقاضا تسلیم کیا جاتا ہے۔اور اسی طرح معاشی سرگرمیوں، دفتر اور کاروبار کے اُمور کو موثر اورکامیاب بنانے کے لئے نظم وضبط کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں اس وقت بلاگنگ کا شوق جنون کی حد کو پہنچ گیا ہے۔ روزانہ لاکھوں افراد بلاگ لکھتے اور لاکھوں لوگ دوسروں کے بلاگ پڑھتے بھی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت بلاگنگ انٹرنیٹ کی ایک اہم ترین سرگرمی کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے ۔آج زیر تجویز موضوع ’’ایک کامیاب بلاگر بننے کے لئے ضروری ٹپس،،پر معلومات فراہم کرنے سے پہلے بلاگنگ ہے کیا ؟اس پر روشنی ڈالنا ضروری ہے ۔

بلاگنگ کا سب سے بڑا مرکز ’’گوگل بلاگر،، کے مطابق ’’بلاگ ایک ذاتی ڈائری ہوتی ہے۔انسان کے دن بھر کی مصروفیات کی ڈائری اس ڈائری کے ذریعے ایک جگہ انسان جہاں رابطے پیدا کرتا ہے ،وہیںیہ ایک ایسا ماخذ بھی ہے جس کے ذریعے اہم ترین خبریں نکلتی ہیں۔ روابط کے ذرائع قائم ہوتے ہیں اور ذاتی خیالات کی بڑی تعداد میں ترسیل ممکن ہوتی ہے ۔ ،،

٭انٹرنیٹ پر ایک مخصوص اکاؤنٹ بنا کر سوچ کو لفظ کے لباس میں بلا جھجکے لکھ دینا بلاگ کہلاتا ہے

بلاگنگ سیاست کا بھی اہم ترین اوزار کہا جاتا ہے کیونکہ ترقی یافتہ اقوام کی سیاسی شخصیات بلاگ کے ذریعے ہی اپنے ذاتی خیالات کو عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بناتی ہیں۔لیکن ایک کامیاب بلاگر کیسا ہونا چاہئیے آئیے اب بات کرتے ہیں اس اہم موضوع اور ان ضروری ہدایات پر جن کے ذریعے آپ بھی ایک کامیاب بلاگر بن سکتے ہیں۔

سیکھنے کا دروازہ کبھی بند نہ کریں

اگر آپ ایک کامیاب بلاگر بننا چاہتے ہیںتوسیکھنے کی راہیں ہمیشہ کھلی رکھیں ۔ایک کامیاب لکھاری کے لئے پڑھنا بے حد ضروری ہے پھر چاہے وہ سیاسی موضوعات ہوںیا سائنسی، وہ جتنا پڑھے گا اتنازیادہ اچھا لکھ سکے گا۔مطالعہ لکھاری کی اہم ترین ضرورت کے طور پرتسلیم کیا جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ پڑھنے کے لیے کسی موٹی کتاب ہی کا انتخاب کریں بلکہ چھوٹے کتابچے، اخباری کالم یا پھر بلاگز پڑھ کر بھی مطالعے کی عادت ڈال سکتے ہیں۔

افسانوی نہیں، حقیقی انداز اپنائیں

بلاگ لکھنے کے لئے ہمیشہ سادہ الفاظ اپنائیں۔افسانوی باتیں کرنےکے بجائے حقیقی انداز اپناتے ہوئے ایسے لکھیں کہ جیسے آپ بات کرتے ہیں۔مشکل الفاظ کا چناؤ کرنے کے بجائے سادہ اور عام فہم الفاظ میں اپنے خیالات قاری تک پہنچانے چاہئیں ۔جس طرح ایک شخص ڈائری لکھتے ہوئےاپنی سوچ،تخیل اورکہیں پڑھے گئے خوبصورت لفظ اور کبھی کسی کی زندگی کا نچوڑ سنہرے اقوال بھی درج کرتا ہے بالکل یہی معاملہ بلاگ کا بھی ہے۔

حقائق کا ثبوت اپنے پاس موجود رکھیں

بلاگ چونکہ ذاتی خیالات کا مجموعہ ہوتا ہے۔اس لئے اگر آپ اپنی تحریر میں کوئی بھی غیر معمولی دعوی کرنے جا رہے ہیں، تو کم سے کم اس کے پیچھے موجود حقائق معتبر اور قابل اعتماد ہونے چاہئیں۔آپ کی تحریر کی صداقت ان حقائق پر انحصار کرتی ہے اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کی ویب سائٹس پر وزٹ کریں تو کسی بھی پیغام یا دعویٰ کو بغیر تصدیق اپنے بلاگ کا حصہ نہ بنائیں۔

حالیہ موضوعات کو بلاگ میں شامل کریں

پرانے موضوعات پر لکھنے کے بجائے حالیہ موضوعات کو اپنی تحریر کا حصہ بنائیں۔۔ مثبت سوچ رکھتے ہوئے مکمل دلائل اور بہتر طریقہ سے اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔

تخلیقی سوچ اپنائیں

اگر آپ کسی نئے موضوع کے بجائے پرانے موضوع پر لکھ رہے ہیں یا آپ کا موضوع مکمل طور پر منفرد نہیں اسے طرز تحریر سے منفرد بنائیں ۔موضوع کو مختلف زاویوں سے پرکھنے کے بعد تحریر میں شامل کریں آؤٹ آف باکس سوچنے اور پرکھنے کے بعد لکھنا شروع کریں۔

بلاگ تک رسائی آسان بنائیں

ادبی اصطلاح تحریر تک رسائی جتنی آسان ہوگی اتنا ہی قاری کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔تحریر میں ان لفظوں کا استعمال کریں جن تک پہنچنا مشکل نہ ہواگرگر کوئی آپ کےبلاگ کو پڑھنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو، ان کے لئےاس تک پہنچنا بھی آسان بنائیں۔

بلاگ زیادہ طویل نہ لکھیں

جدید دور میں انسان کے پاس انٹرنیٹ کی رسائی آسان ہونے کے باعث معلومات کا خزانہ موجو دہے ۔اس لئے کامیاب بلاگر کا کہنا ہے کہ بلاگنگ کے گرو400سے 800 الفاظ تک پر مشتمل بلاگ لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اگر ان کی تحریروں کا موازنہ کیا جائے تو وہ خود بھی اس پر عمل کرتے نظر آتے ۔ 400سے 800 الفاظ میں اپنا نقطہ نظر بخوبی بیان کیا جاسکتا ہے۔آپ کے بلاگ کی طوالت آپ کے قاری کی توجہ کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

بلاگنگ سے حاصل ہونے والی کمائی

دنیا بھر میں بلاگرزکی ایک بڑی تعداد موجودہے جو بلاگنگ کے ذریعے پیسہ کمارہی ہے ۔ دنیا کا سب سے مشہور اور سب سے زیادہ پیسہ کمانے والا آریانا ہفنگٹن کا نیوز بلاگ ”دی ہفنگٹن پوسٹ“ ہے۔ جس کی ماہانہ آمدنی تقریباً 2.33 ملین ڈالر ہے۔۔ دوسرے نمبر پرپیٹ کیشمور کے ٹیکنالوجی بلاگ ”میش ایبل“ ہیں جن کی ماہانہ آمدنی تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ڈالر، ماریو لاونڈیرا کے فیشن بلاگ ”پیرز ہلٹن“ کی ماہانہ آمدنی تقریباً ساڑھے چار لاکھ ڈالر اور مائیکل ارنگٹن کے ٹیکنالوجی بلاگ ”ٹیک کرنچ“ کی ماہانہ آمدنی تقریباً چار لاکھ ڈالر ہے۔ پاکستان میں بھی اس وقت بہت سے لوگوں کا روزگا ر بلاگنگ سے وابستہ ہے ۔

یہ لوگ پیشہ ور بلاگر کے طور جانے جاتے ہیں جو ماہانہ ایک لاکھ سے لے کر دس لاکھ روپے تک صرف بلاگنگ سے ہی کماتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...