بلاگنگ کا تاریخی پس منظر
بلاگ انگریزی کے دو لفظوں web and log سے مل کر بنا ہے جو ایسی ویب سائٹس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں معلومات کو تاریخ وار رکھا جاتا ہے۔
ویب لاگ (weblog) کا لفظ جان بارگر (Jorn Barger) نے پہلی دفعہ 1997ء میں استعمال کیا تھا جو robotwisdom.com نامی ویب لاگ سائٹ چلا رہے ہیں۔ اس کے بعد لفظ بلاگ کو پیٹر مرہولز(Peter Merholz) نے مزاحیہ انداز میں لفظ ’’ویب لاگ‘‘ کو توڑ کر we blog کے طور پر استعمال کیا اور یہیں سے پھر لفظ ’’بلاگ‘‘ مشہور ہوگیا۔Xanga نامی سائٹ، جو بلاگنگ میں ایک بڑا نام ہے، پر
1998 ء تک صرف 100 بلاگ تھے مگر 2005ء تک 20 ملین سے تجاوز کر چکے تھے۔ اس کے بعد لاتعداد دوسرے بلاگ ہوسٹنگ ٹولز میدان میں آئے اور بلاگنگ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اوپن ڈائری بلاگنگ نے سب سے پہلے صارفین کو کسی بھی بلاگ پر تبصرہ کرنے کی سہولت فراہم کی جو بہت کامیاب رہی۔
لائیو جرنل ایک اور مفت اور مشہور بلاگنگ سروس ہے جو پرائیوٹ جرنل ، بلاگ ، ڈسکشن فورمز اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ بنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ 1999ء سے اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد بلاگز اور کمیونٹیز بن چکی ہیں۔ لائیو جرنل پر آپ کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ آپ اپنے موبائل فون سے بھی بلاگ پوسٹ کر سکتے ہیں۔
ایک دو سال پہلے تک بلاگز صرف تحاریر پر مشتمل ہوتے تھے، مگر اب بلاگنگ صرف تحریروں تک محدود نہیں رہی بلکہ فوٹو بلا گ ، اسکیچ بلاگ، ویڈیو بلاگ ، میوزک بلاگ، آڈیو (پوڈ کاسٹ) کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہوچکا ہے اور یہ سب اب انٹرنیٹ کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔
بلاگنگ کیوں؟
بلاگنگ بلاشبہ اس وقت انٹرنیٹ کی اہم ترین سرگرمی شمار کی جاتی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے بلاگز لکھتے یا دوسروں کے بلاگ پڑھتے ہیں اور یہ ایک جنون کی طرح انٹرنیٹ پر پھیلاتا ہی چلا جارہا ہے۔ سینکڑوں بلاگنگ ٹولز کی بدولت یہ کام ازحد آسان ہوچکا ہے۔ مزید براں، مختلف ڈیوائسس کے استعمال سے بلاگنگ کو بھی بڑے پیمانے پر فروغ حاصل ہورہا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر بلاگنگ کی ہی کیوں جاتی ہے؟
اس سے پہلے آئیے دیکھتے ہیں کہ بلاگز کے بارے میں مختلف آراء کیا ہیں۔
’’گوگل بلاگر‘‘ جو اس وقت شاید بلاگنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے کہ مطابق ’’ بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے، آپ کے دن بھر کی مصروفیت کی ڈائری، ایک جگہ جہاں آپ رابطے پیدا کرتے ہیں، ایک ماخذجہاں سے اہم ترین خبریں نکلتی ہیں، روابط کا ذخیرہ اور آپ کے ذاتی خیالات ۔‘‘
یہ انسانی فطر ت ہے کہ وہ اپنی دریافت، ایجاد اور خیالات دوسروں بتانا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسرے کو سوچتے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگز لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیوں کہ بلاگ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے خیالات، اپنی دریافتیں، اپنے منصوبے کُھل کر بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہیں بلاگ کی صورت میں ایک دنیا مل جاتی ہے جہاں وہ حکومت کرتے ہیں۔
بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگز لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے سیکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔ یہی حال دیگر اہم کمپنیوں کا ہے جن کے ملازمین اپنے بلاگز میں اپنے اہم تجربات اور مشاہدات بیان کرکے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔
بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم اوزار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ ترقی یافتہ اقوام کی بہت سی سیاسی شخصیتیں اپنے بلاگز لکھتی ہیں۔ بلاگز کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایک مشہور بلاگنگ سروس ـ ’’بلاگر‘‘ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسی طرح دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ صورتِ حال دیکھنے میں آتی رہتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیدران ہوں یا کسی یونی ورسٹی کے محققین، فلمی ستارے ہوں یا ذرائع ابلاغ سے منسلک لوگ، بلاگز سب کی ضرورت بن چکے ہیں۔
بلاگز اتنے مشہور ہوچکے ہیں کہ اب یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا مشہور بلاگ ہو جسے آپ اشتہارات سے پاک دیکھیں۔ لوگوں میں دوسروں کے بلاگ پڑھنے کا رجحان، اپنے بلاگ لکھنے سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پوری ویب سائٹ کے مقابلے میں اسی سائٹ پر موجود کسی مخصوص بلاگ کے ملاحظہ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے بلاگز پر اشتہارات لگا کر ان کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ جبکہ گوگل ایڈسنس کے اشتہارات تو آپ کو تقریباً ہر چھوٹے بڑے بلاگ پر نظر آتے ہی رہتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں