نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پنجابی زبان کی پاکستان میں درجہ بندی

اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کے باوجود پنجابیوں کی عوامی زبان پنجابی ھی ھے۔

فرانس کے نارمنز نے گیارہویں صدی عیسوی میں برطانیہ کو فتح کر کے اپنی حکومت قائم کی۔ اس فتح کے بعد انگریزوں کے مذہبی طبقے نے لاطینی زبان کے نفاذ پر زور دیا جبکہ انگریزوں کی اشرافیہ کا رحجان فرانسیسی زبان کی طرف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ فرانسیسی زبان کو برطانیہ کی سرکاری زبان کا درجہ مل گیا۔ حالانکہ لاطینی اور فرانسیسی زبان سے عام انگریز کو دلچسپی نہیں تھی۔ کیونکہ برطانیہ کی عوامی زبان انگریزی ھی تھی۔ لیکن اس کے باوجود انگریزی زبان کے عوامی زبان ھونے کی افادیت پر انگریزوں کی اشرافیہ نے توجہ نہ دی۔

یہ صورت حال کم و بیش تین سو سال چلی۔ فرانسیسی زبان محض تسلیم شدہ سرکاری اور انگریزوں کی اشرافیہ کی زبان کی حد تک محدود رہی لیکن انگریزوں کی عوامی زبان نہ بن سکی۔ عام انگریز نے اپنی مادری زبان انگریزی کو اپنائے رکھا اور نسل در نسل منتقل کیا۔

چودھویں صدی کے آغاز تک برطانیہ میں فرانسیسی اثرو رسوخ کم ہو گیا اور برطانیہ نے آزادی کے لئے فرانس سے لگ بھگ سو سالہ جنگ لڑی۔ برطانیہ میں 1362 میں ایک قانون پاس کیا گیا کہ اب سے عدالتی کارروائی فرانسیسی کے بجائے انگریزی زبان میں ہو گی۔

اس طرح برطانوی قوم نے نہ صرف اپنی شناخت کو زندہ رکھا بلکہ اپنی زبان کو بھی معدوم ہونے سے بچا لیا اور آج دنیا میں انگریزی سب سے زیادہ بولی ' سمجھی اور سیکھی جا رہی ہے اور عالمی زبان کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی آج مادری زبان کے حوالے سے کم و بیش وہی مسائل درپیش ہیں جو گیارہویں صدی عیسوی میں برطانیہ میں تھے۔ پنجاب کا مغرب سے متاثر طبقہ انگریزی زبان کے نفاذ پر زور دیتا ہے۔ لیکن پنجابیوں کی اشرافیہ کا رحجان اردو زبان کی طرف ھے۔ یہی وجہ ھے کہ اردو زبان کو پنجاب کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ھے۔ حالانکہ انگریزی اور اردو زبان سے عام پنجابی کو دلچسپی نہیں ھے۔ کیونکہ پنجاب کی عوامی زبان پنجابی ھی ھے۔ لیکن اس کے باوجود پنجابی زبان کے عوامی زبان ھونے کی افادیت پر پنجابیوں کی اشرافیہ توجہ نہیں دے رھی۔

پنجابیوں کی اشرافیہ اردو سے متاثر ہے اور غلامی کے خول سے باہر نہیں آنا چاہتی۔ حالانکہ اردو زبان محض کاغذات کی حد تک تسلیم شدہ سرکاری اور پنجابیوں کی اشرافیہ کی زبان کی حد تک محدود زبان ہے لیکن پنجابیوں کی عوامی زبان نہیں بن پارھی۔ عام پنجابی اپنی مادری زبان پنجابی کو اپنائے ھوئے ھے اور نسل در نسل منتقل کر رھا ھے۔ اس لیے ھی پنجابی زبان پورے پنجاب میں بولی اور سمجھی جاتی ہے جبکہ اردو صرف پنجاب کی تسلیم شدہ سرکاری اور پنجابیوں کی اشرافیہ کی زبان کی حد تک محدود ھے۔

پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ' بابا نانک ' شاہ حسین ' سلطان باہو ' بلھے شاہ ' وارث شاہ ' خواجہ غلام فرید ' میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ' حکمت اور دانش کے خزانے ھیں۔ اس لئے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔

پنجابی قوم دنیا کی نوویں سب سے بڑی قوم ھے۔
پنجابی قوم جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی قوم ھے۔
پنجابی مسلمان مسلم امہ کی تیسری سب سے بڑی برادری ھے۔
پنجابیوں کی پاکستان میں آبادی 60 فیصد ھے۔
پنجابی زبان پاکستان کی 80 فیصد آبادی بولنا جانتی ھے۔
پنجابی زبان پاکستان کی 90 فیصد آبادی سمجھ لیتی ھے۔

پنجاب کی حکومت کی طرف سے جب یہ قانون پاس ھو گیا کہ اب پنجاب کے اسکولوں میں تعلیم پنجابی زبان میں دی جائے گی اور پنجاب کے دفتروں میں کارروائی اردو کے بجائے پنجابی زبان میں ہو گی تو پہلے سے ھی دنیا میں بولی جانے والی نوویں بڑی زبان ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان نے عالمی سطح پربہت زیادہ اھمیت اختیار کرلینی ھے۔ جسکی وجہ سے پنجابی زبان نے دنیا میں سب سے زیادہ بولی ' سمجھی اور سیکھی جانے والی عالمی زبانوں میں سے ایک زبان کا درجہ حاصل کرلینا ھے اور پنجابی قوم نے بین الاقوامی سطح پر مزید عزت اور وقار حاصل کرلینا ھے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...