نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پاکستان اور بھارت میں زلزلے کے شدید جھٹکے

 

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر اس کی شدت 5.9 تھی


پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور ملک کے شمالی حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

راولپنڈی، پشاور، مظفرآباد، گلگت ایبٹ آباد سمیت دیگر شہروں سے زلزلے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ریکٹر سکیل پر اس کی شدت 5.9 تھی، اس کا مرکز تاجکستان کے علاقے مرغوب سے 35 کلومیٹر دور تھا اور اس کی گہرائی نوے کلومیٹر سے زیادہ تھی

تاہم پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر چھ اعشاریہ چار ریکارڈ کی گئی ہے اور ادارے نے اس کی گہرائی 80 کلو میٹر بتائی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے تقریباً پورے ملک میں محسوس کیے گئے ہیں جبکہ جبکہ شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخواہ، اسلام آباد، لاہور میں اس کی شدت زیادہ تھی۔

دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دلی میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ کشمیر، پنجاب اور دلی سمیت شمالی انڈیا کے کئی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ انڈیا میں حکام کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزے کی شدت 6.3 تھی۔


                                             پاکستان میں صورتحال


محکمہ موسمیات کے ترجمان ڈاکٹر خالد ملک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے 472 کلو میٹر دور تاجکستان میں تھا۔


'پاکستان سے کافی دور تھا جس وجہ سے ہم توقع کر رہے ہیں کہ اس سے زیادہ کوئی نقصاں نہیں ہوا ہوگا۔ اگر اس کا فاصلہ کم ہوتا تو اتنے زیادہ دورانیہ اور 6.4 کی شدت سے نقصاں ہوسکتا تھا'۔


صوبہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے کے مطابق ان کے کنڑول روم کو کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔


ڈی جی پی ڈی ایم اے کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ 'عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ہماری ہیلپ لائن 1700 پر دیں۔'


’ہر کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا‘


مانسہرہ کے رہائشی 70 سالہ سردار اسلم کا کہنا تھا کہ یہ طویل دورانیہ کا زلزلہ تھا۔ 'میرا تو خیال ہے کہ یہ کوئی 35 سیکنڈ تک رہا تھا۔ مجھے تو ایسے لگ رہا تھا کہ زلزلہ ختم ہونے ہی کو نہیں آرہا ہے۔'


جب زلزلہ محسوس ہو رہا تھا تو میرے ذہن میں ایک دم آٹھ اکتوبر 2005 کے مناظر آرہے تھے۔ مگر شکر ہے کہ ہر طرح کی خیر ہوئی ہے۔'


اسلام آباد کے رہائشی پچاس سالہ مقبول حسین کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں تو یہ شدید زلزلہ تھا۔ سب لوگ باہر بھاگ رہے تھے۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کسی نے چپل پہنے ہوئے تھے اور کوئی ننگے پاؤن تھا۔ ماؤں نے اپنے بچے اٹھائے ہوئے تھے اور کوئی اپنے بزرگوں کو سنبھال رہا تھا۔


'وہ تو شکر ہے کہ اس کی زیادہ شدت نہیں تھی مگر زمین کو 30 سیکنڈ تک جھٹکے دیتا رہا ہے، اگر زیادہ شدت ہوتی تو پتا نہیں کیا ہوجاتا۔'


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور عورتیں اور بچے خوف کے باعث چیخنے لگے۔


شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے مکانات میں نئی دراڈیں پڑ گئی ہیں اور یہ کہ لوگ بھاگ کر تنگ گلیوں سے نکل کر کھلی جگہوں کی جانب جا رہے تھے۔


بعض ایسے افراد جنہوں نے سنہ 2005 کے زلزلے کے بعد سی جی آئی شیٹس کے شیلٹر بنا رکھے ہیں انھوں نے خوفزدہ ہو کر کنکریٹ کے گھروں میں رہنے والوں کو آج رات کے لیے اپنے گھروں پر قیام کرنے کو کہا ہے۔


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور عورتیں اور بچے خوف کے باعث چیخنے لگے۔


شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے مکانات میں نئی دراڈیں پڑ گئی ہیں اور یہ کہ لوگ بھاگ کر تنگ گلیوں سے نکل کر کھلی جگہوں کی جانب جا رہے تھے۔


گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان امتیاز علی تاج کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں نے گلگت بلتستان کے طول و عرض میں خوف و ہراس پیدا کردیا تھا۔ لوگ سخت سردی کی وجہ سے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ جس میں بیماروں اور دیگر لوگوں کے لیئے مسائل پیدا ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت ابتدائی اطلاعات کے مطابق ابھی تک کسی بڑے نقصاں کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مگر گلگت بلتستان کا علاقہ پھیلا ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں رسائی حاصل کرنا وقت طلب ہوتا ہے۔ پورے گلگت بلتستان میں اس وقت انتظامیہ،محکمہ صحت، پولیس اور ڈیزاسیٹر کا محکمہ فعال ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

سورہ کوثر کے عددی معجزے

*سورۃ الکوثر میں عددی معجزے نے مجھے حیران کر رکھا ہے* سورۃ الکوثر قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اور اس سورۃ کے جملہ الفاظ 10 ہیں۔ قرآن بذات خود ایک معجزہ ہے لیکن جب سورۃ الکوثر کی پہلی آیت میں 10 حروف ہیں۔ – سورۃ الکوثر کی دوسری آیت میں 10 حروف ہیں۔ – سورۃ الکوثر کی تیسری آیت میں 10 حروف ہیں۔ – اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ‏…حرف “ا” الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے۔ – وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں انکی تعداد 10 ہیں۔ – اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف “ر” راء پر ہوا ہے جو کہ حروفِ ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔ – قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف “ر” راء پر اختتام پذیر ہو رہی ‏…ہیں، انکی تعداد 10 ہے جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے۔ سورت میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ ذو الحجہ کے مہینے کا 10واں دن ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ” فصل لربک وانحر” “پس نماز پڑھو اور قربانی کرو” وہ دراصل قربانی کا دن ہے اللہ کی شان کہ یہ ‏…سب کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ، جو ایک سطر پر مشتمل ہے، میں آگیا آپکا کیا خیال ہے بڑی سورتوں کے متعلق!!! ‏اللہ ت...