پاکستان 27 رمضان کو وجود میں آیا۔ مولانا طارق جمیل صاحب کے بقول یہ اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔ اللہ نے اس عظیم ریاست کو وجود میں لانے کے لیے سال کی سب سے بہترین رات منتخب کی تھی۔ بہت سے نیک لوگوں کو یقین ہے کہ جس رات پاکستان وجود میں آیا اس رات لیلاۃ القدر تھی۔
مستقبل کے حوالے سے حضورﷺ کی کئی احادیث میں سعودی عرب سے مشرق کی سمت کسی ریاست کا ذکر آتا ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں اہم ترین کردار ادا کرے گی مثلاً
غزوہ ہند کی مشہور حدیث جس کے مطابق ایک اسلامی ملک پہلے ہندوستان فتح کرے گا اور پھر اہل یہود کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑے گا۔
اسی طرح روایات ہے کہ حضورﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میرا دین پوری دنیا میں کمزور ہوگا تو وہاں سے اٹھے گا۔
ایک اور موقعے پر فرمایا کہ مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں۔ جس پر علامہ اقبال نے قسم کھائی کہ ۔۔۔۔
میر عرب کو آئی تھی جہاں سے ٹھنڈی ہوائیں
وہی میرا وطن ہے وہی میرا وطن ہے
اب ذرا یہ چیک کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کے متعلق واقعی علامہ اقبال کا گمان درست تھا اور حضورﷺ کی احادیث میں پاکستان ہی کی طرف اشارہ تھا!
یہ تو آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں مدینے کے بعد پاکستان دوسری ریاست ہے جو اسلام کے نام پر بنی ہے۔ لیکن مدینے سے مماثلت کا معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں !
مدینے کو اس وقت مشرکوں ( بت پرستوں) سے خطرہ تھا ان مشرکوں کی مدد یہودی کر رہے تھے۔
پاکستان کو بھی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مشرک (بت پرست) ریاست !نڈ_یا سے خطرہ ہے جس کی مدد !سر!_ئیل یعنی یہودی کر رہے ہیں۔
مدینے کی مشرکوں کے خلاف تین بڑی جنگیں ہوئیں اور چوتھی جنگ فیصلہ کن تھی جس میں مکے کو فتح کر لیا گیا تھا۔
پاکستان کی مشرکوں ( !_نڈ_یا ) کے ساتھ اب تک تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کن ہوگی۔
دونوں کے نام کا مفہوم بھی ایک ہی ہے۔ پاکستان کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ " ۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ کو پہلے مدینہ النبی اور بعد میں مدینہ طیبہ کہا جانے لگا جس کا مطلب ہے " پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ"
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے آج سے 850 سال پہلے نہ صرف قیام پاکستان کی پیشن گوئی فرمائی تھی بلکہ اس ملک سے اللہ نے جو کام لینے ہیں ان کے بارے میں بھی بتا دیا تھا ۔ قیام پاکستان سے پہلے نعمت اللہ شاہ ولی نے فرمایا تھا کہ
بعد ازاں گیرد نصارے ملک ہندویاں تمام ۔۔۔۔۔ تاصدی حکمش میاں ہن_دو_ستاں پیدا شود
یعنی انگریزوں کی حکومت صرف ایک صدی تک قائم رہے گی۔ نعمت اللہ شاہ کے اس شعر پر لارڈ کرزن نے پابندی لگوا دی تھی۔
اس کے بعد قیام پاکستان سے متعلق فرماتے ہیں
دو حصص چوں ہند گردو خون آدم شدرواں ۔۔ شورش و فتنہ فزون از گماں پیدا شود
یعنی ہند_وس_تاں دو حصوں میں تقسیم ہوجائیگا اور بہت زیادہ شورش اور خون خرابہ ہوگا۔
پھر فرماتے ہیں ۔۔
مومناں یا بنداماں در خظہ اسلاف خویش ۔۔۔۔۔۔۔۔ بعدازرنج و عقوب بت بخت شاں پیدا شود
یعنی مسلمان دراسلام میں امان حاصل کرلینگے۔ اس شعر میں ان مہاجرین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے ہندوؤں کے ظلم ستم سہنے کے بعد پاکستان آکر آمان پائی۔
65ء کی جنگ کا بھی ذکرکیا ہے کہ 17 دن چلے گی اور مومنوں کو اللہ فتح دے گا لیکن 71ء کی جنگ کے حوالے سے دلچسپ شعر کہا کہ
نعرہ اسلام بلند شد بست دسہ ادوارچرخ ۔۔۔۔ بعد ازاں بارد گریک قہر شاں پیدا شود
یعنی اسلام کا نعرہ 23 سال تک بلند رہے گا جس کے بعد دوسری مرتبہ ان پر قہر ٹوٹے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن ٹھیک 23 سال بعد سازشیوں نے اس میں لسانیت کا زہر گھول دیا اور بنگالی کا نعرہ بلند کیاگیا تب بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا۔ اپنی اس کامیابی پر اندرا گاندھی نے بڑے مغرور انداز میں کہا تھا کہ " آج نظریہ پاکستان کو ہم نے خلیج بنگال میں غرق کر دیا " ۔۔ یہ وہی نظریہ ہے جسکا اوپر شعر میں ذکر ہے۔
اشعار بہت زیادہ ہیں نیٹ پر باآسانی مل جائنگے ہم یہاں خلاصہ لکھتے ہیں کہ نعمت اللہ شاہ نے پاکستان کو ایک زبردست جنگجو لیڈر ملنے کی پیش گوئی کی ہے جس کی قیادت میں پاکستان کی انڈیا کے ساتھ ایک آخری اور فیصلہ کن جنگ ہوگی جس میں ابتداء میں پاکستان اٹک تک خیبر پختنواہ اور پنجاب کے کئی علاقے کھو دے گا۔ لیکن مسلمان جنگ جاری رکھینگے جس کے بعد بلاآخر !نڈ_یا کو مکمل طور پرمغلوب کر دیا جائیگا۔
جہاں تک جنگجو حکمران کی بات ہے تو گمان غآلب ہے کہ وہ کوئی سپاہ سالار ہی ہو سکتا ہے۔ ہم نے پاکستان کی 68 سال تاریخ میں دیکھ لیا ہے کہ جرنیل ہمیشہ پاکستان کے لیے بہترین حکمران ثابت ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ان اشعار کے حوالے سے دو چیزیں ایسی ہیں جو آج ہمیں نظر آرہی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان کی مدد منگول کرینگے۔ ان کے دورمیں چینی قوم کو منگول بھی کہا جاتا تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ا_نڈ'یا کے خلاف چین اور پاکستان متحد ہوچکے ہیں۔
دوسری اٹک تک کا علاقہ کھونے کی بات کو اس تناظر میں دیکھیں کہ اف_غانس_تان میں موجود 2 لاکھ اف_غان نیشنل آرمی سخت پاکستان دشمن ہے اور انکی قیادت !نڈ_یا کے زیراثر ہے۔ ان کا پاکستان میں اٹک تک کے علاقے پر دعوی بھی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ جب پاک فوج !نڈ_یا کے ساتھ مصروف جنگ ہو تو اف_غان_ستان کی کٹھ پتلی حکومت کو موقع مل جائے پاکستان پر مغربی سمت سے حملہ کرنے کا اور پاک فوج کی غیر موجودگی میں ان کے لیے ان علاقوں میں پیش قدمی کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ گمان غالب ہے کہ ان کے خلاف پاکستان کی مدد ا_ف_غا_ن ط_الب_ان کرینگے!
نعمت اللہ شاہ ولی کی یہ پیشن گوئیاں یہ بھی ثابت کرتی ہیں کہ غ_ز_و_ہ ہند لڑنے والی جس عظیم فوج کا حضورﷺ نے ذکر کیا ہے وہ پاک فوج ہی ہے۔ اس پر ایک دلیل اور بھی ہے۔ غ_ز_و_ہ ہند والی حدیث میں لڑنے والی فوج !سر!_ئیل کے خلاف بھی جنگ کرے گی یعنی یہودیوں سے۔ آج اس خطے میں جو اسلامی ممالک موجود ہیں ان میں سے صرف پاکستان ہی واحد اسلامی ملک ہے جسکی بیک وقت !سر!_ئیل اور !نڈ_یا کے ساتھ معاملات خراب ہیں اور کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ یہ شرط نہ ا_ف_غانستان پوری کر سکتا ہے نہ بنگلہ دیشن اور نہ ہی ایران۔
اب نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئیوں کے حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ آپکو سناتے ہین۔
نعمت اللہ شاہ کی پیشن گوئیوں کو سن کر ایک 25 سال کا جوان 1857ء کی جنگ آزادی میں شریک ہوا ۔ وہ فتح کے لیے پر امید تھا لیکن اسی جنگ کے دوران اس نوجوان کو ایک بزرگ ملے اور اس سے کہا کہ " تم کو جس فتح کی خوشخبری دی گئی تھی یہ وہ نہیں ہے اس میں ابھی 90 سال باقی ہیں ۔ ایک ملک بنے گا جو عالم اسلام کا مرکز بنے گا اور تم اسکو دیکھو گے۔
یہ سن کر وہ نوجوان جنگ چھوڑ کر چلا گیا اور انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ ٹھیک 90 سال بعد پاکستان بنا ۔ وہ پھر بھی زندہ رہا اور جب اسلام آباد بنا تب وہ 160 سال کی عمر میں فوت ہوا اور اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں دفن ہوا ۔ جہاں اسکی قبرکی تختی پر اس معاملے کا ذکر بھی ہے۔ انکی قبر قدرت اللہ شہاب کی قبر کے نزدیک ہے۔ قبر پر انکا نام عبد اللہ محبوب لکھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص حضرت مہاجر مکی تھے۔ واللہ اعلم
ہالینڈ کی نیشنل لائبریری میں ہاتھ لکھی ہوئی ایک دستاویز موجود ہے جو حضرت بری امام سے منسوب ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ " ایک دن ہمارا یہ شہر تمام عالم اسلام کا مرکز بنے گا " ( بری امام صاحب اسلام آباد میں دفن ہیں) وہ آج سے 300 سال پہلے گزرے ہیں۔
شیخ _ل_ہند نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی لیکن پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ " اب پاکستان مسجد کے حکم میں ہے اور اسکی حفاظت فرض ہے " ۔۔
مولانا اشرف علی تھانوی نے قیام پاکستان سے غالباً 6 سال پہلے اپنی بیوی کو وصیت کی تھی کہ " پاکستان بن جائیگا تم وہاں چلی جانا " ۔۔۔
خان آف قلات کو حضورﷺ خواب میں آئے تھے کہ " پاکستان کے ساتھ شامل ہوجاؤ " ۔۔۔
صوفی برکت علی نے فرمایا تھا کہ " ایک دن پاکستان کی ہاں اور ناں میں دنیا کی ہاں اور ناں ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میری قبر پر آکر تھوک دینا" ۔۔۔
بات صرف ہمارے بزرگوں تک محدود نہیں۔ کفار کے بڑوں نے بھی اس حوالے سے پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں مثلاً
ہندو ہر بڑا کام کرنے سے پہلے حساب کتاب کرتے ہیں زائچے بناتے ہیں، مہورتیں نکلاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد گاندھی نے پنڈت و نجومی بلوا کر حساب کتاب کیا اور پھر اعلان کیا کہ پاکستان اور !نڈ_یا میں 4 جنگیں ہونگی اور چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایا کہ جنگ کا فاتح کون ہوگا۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد اس نے !نڈ_یا کو پاکستان کے خلاف جنگ سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی یہانتک کے پاکستان کو اسکا حق دلوانے کے لیے مرن بھرت یا بھوک ہڑتال کر دی تھی جس پر اسکو قتل کر دیا گیا۔
اسی طرح ڈیوڈ بن گوریان جو کہ ا_سر_!ئیل کے بانیوں میں سے تھا اس نے پاکستان کے حوالے سے پیشن گوئی کی تھی کہ "بین الاقوامی صہیونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئیے۔ پاکستان درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی نظریاتی جواب ہے۔پاکستان کا ذہنی و فکری سرمایہ اور جنگی و عسکری قوت و کیفیت آگے چل کر کسی بھی وقت ہمارے لیے باعث مصیبت بن سکتی ہے ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہئے ۔ب_ھ_ار_ت سے دوستی ہمارے لیے نہ صرف ضروری بلکہ مفید بھی ہے ہمیں اس تاریخی عناد سے لازماً فائدہ اٹھانا چاہئیے جو ہندو پاکستان اور اس میں رہنے وا لے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے ۔ یہ تاریخی دشمنی ہمارے لیے زبردست سرمایہ ہے۔لیکن ہماری حکمت عملی ایسی ہونی چاہئیے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعے ہی ب_ھ_ار_ت کے ساتھ اپنا ربط و ضبط رکھیں"۔۔۔۔۔۔ {یر_و_شلم پوسٹ 9 اگست 1967}
عالم کفر کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
عیسائیت، یہودیت، مشرکین اور ملحدین
بہت کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ پاکستان اس وقت بھی ان چاروں سے بیک وقت برسرپیکار ہے اور ان سب کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔
مشرکین کی نمائندہ ریاست !نڈ_یا ہے جبکہ یہودیوں کی اسرائیل۔ ان کے خلاف پاکستان کی جنگ سے ہم سب واقف ہیں۔
جدید الحاد کی سب سے بڑی نمائندہ ریاست روس ہے جو اپنے وقت کی سپر پاور تھی۔ جب وہ اپنے الحادی نظریات کو پوری طاقت سے دنیا بھر میں پھیلا رہی تھی تب پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔
!مر_یکہ بظاہر پاکستان کا اتحادی ہے لیکن اب دنیا جان چکی ہے کہ ا_ف_غانستان میں !مر_یکہ کو درحقیقت کس کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے۔
یہ پیشن گوئی قدرت اللہ شہاب کی کتاب میں بھی موجود ہے جس کے مطابق جب وہ 1959ء میں یونیسکو کے ایگزیکٹیو بورڈ کے ممبر تھے تو اس وقت ان کے تعلقات ایک یورپی باشندے سے ہوئے جس نے قدرت اللہ شہاب کو بتایا کہ " کہ اگرچہ !مر_یکہ اور روس ایک دوسرے کے حریف ہیں لیکن پاکستان کو دونوں اپنا دشمن سمجھتے ہیں" ۔۔۔
پھر اس نے وضاحت کی کہ " یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی اعلی ترین افواج میں ہوتا ہے اور یہ حقیقت نہ روس کو پسند ہے نہ !مر_یکہ کو " ۔۔۔
" روس کی نظریں ا.ف.غا.نستان اور پھر بحیرہ عرب پر ہیں جن کو قابو کرنا پاک فوج کی موجودگی میں نہ ممکن ہے " ( جنرل ضیاء نے اسکو بعد میں سچ ثابت کر دیا )
"جبکہ !م.ر.یکہ !سر!ئیل کا حلیف ہے اور جانتا ہے کہ اگر اسر.ائیل کے خلاف عالم اسلام کی جانب سے عالمی طور پر ج.ہ.ا.د کا اعلان ہوا تو پاکستان کی افوج اور نہتی آبادی بھی کسی حکم کا انتظار کیے بغیر !سر!ئیل پر چڑھ دوڑے گی " ( یہ پیشن گوئی غ.ز.و.ہ _ہند والی حدیث میں بھی ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی نے بھی یہی بات کی ہے )
اکھنڈ بھ.ار.ت، گریٹر !سر!ئیل اور صہیونی تحریک کے راستے کی سب سے بڑی رکاؤٹ پاکستان ہے۔ !نڈ.یا پاکستان کی وجہ سے اب تک صرف کش.م.یر پر قابونہیں پا سکا۔ !سر!ئیل نے دو بار آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پاکستان کے ہاتھوں رسوا ہوا۔ روس پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ !مر.یکی جنگی ماہرین کے مطابق !مر.یکہ کی ا.ف.غانستان میں ناکامی کی وجہ پاکستان ہے!
پاکستان کے ساتھ ایک اور معاملہ بھی عجیب و غریب ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو اللہ زمین میں ہی نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ مثلاً سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار سارے کردار جنہوں نے پاکستان کو توڑا تھا اللہ نے انکو انکے خاندانوں سمیت مٹادیا۔
ذولفقارعلی بھٹو کا سارا خاندان غیر طبعی موت مرا اور آج درحقیقت اسکا کوئی نام لیوا موجود نہیں۔ بلاول بھٹو حقیقت میں بلاول زرداری ہے۔
شیخ مجیب الرحمن اپنے پورے خاندان سمیت مارا گیا صرف اسکی ایک بیٹی باقی بچی۔
اسی طرح اندرا گاندھی نہ صرف خود قتل ہوئی بلکہ اسکا بیٹا راجیو گاندھی بھی قتل ہوا اور دوسرے بیٹے سنجے گاندھی کا 33 سال کی عمر میں پلین کریش ہوگیا یوں اسکا پورا خاندان ختم ہوگیا۔
دنیا بھر میں اس وقت عالم اسلام کے خلاف آپریشن ہارنسٹ نسٹ کے نام سے ایک پراکسی جنگ جاری ہے جس میں خوارج کے ذریعے اسلامی ملکوں کو بہت تیزی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں اس جنگ میں عالمی قوتوں کو شکست ہوئی ہے اور خوارج کو عملی اور نظریاتی دنوں محاذوں پر پسپائی کا سامنا ہے۔ پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے !
طاہر یلد شیف کو روس نے " شیطان " کا نام دے رکھا تھاکیونکہ انکا خیال تھا کہ یہ مرتا نہیں ہے۔ اس شخص کو!مر.یکہ ازبکستان میں روس کے خلاف سال ہا سال تک استعمال کرتا رہا۔ لیکن اس شخص کو جب پاکستان کے خلاف لانچ کیا گیا تو کچھ ہی عرصے بعد یہ پاک فوج کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔
اسی طرح سری لنکا کے خلاف لڑنے والی تامل تحریک کے لیدڑپربھاکرن کو لوگ سورج دیوتا کہتے تھے کیونکہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اسکو موت نہیں آتی۔ لیکن جب ان تاملز نے پاکستان پر لاہور میں حملہ کیا تو جواباً پاک فوج نے سری لنکن فوج کے ساتھ ملکران تاملز کے خلاف آپریشن کیا جس میں وہ سورج دیوتا مارا گیا۔
عجیب بات ہے کہ پاکستان کے خلاف لڑنے والے اکثر خارجیوں کو تین چار سال سے زیادہ کی مہلت نہیں ملتی!
اب اس مضمون کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا ان "اتفاقات" پر غور فرمائیے!
پاکستان آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اسلامی ملک نہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں سب سے زیادہ نمازی، روزے دار، زکواۃ دینے والے، مساجد، علماء، حفاظ اور حاجی پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔
پاکستان دنیا میں دعوت و تبلیغ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
پاکستان دنیا میں ج.ہ.ا.د کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
پاکستان کو اللہ نے دنیا میں سب سے اہم سٹریٹیجک لوکیشن دی ہے اور دنیا کی کئی بڑی سپر طاقتیں بیک وقت کسی نہ کسی طرح پاکستان پر انحصار کرتی ہیں۔ یہی حال پاکستانی سمندر کا بھی ہے خاص کر گوادر کا۔
پاکستان کو اللہ نے 5 موسم دئیے ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان صحیح معنوں میںٰ اپنی زمینوں سے پیدوار لے تو پورے براعظم کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس بے پناہ معدنی وسائل ہیں جن میں صرف تھر کا کوئلہ ہی سعودی عرب کے کل تیل کے ذخائر سے زیادہ مالیت کا ہے۔
پاکستان سوئی نہیں بنا سکتا لیکن دنیا کے جدید ترین میزائل بنا چکا ہے۔ پاکستان کے نیوکلئر میزائل پروگرام کا مقابلہ اس وقت دنیا میں صرف !مر*یکہ اور چین کر سکتا ہے۔ باقی ممالک کو اس معاملے میں پاکستان پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
کیا یہ سب واقعی محض اتفاقات ہیں ؟؟؟
پاکستان کے خلاف بے پناہ سازشیں ہونے کے باوجود اب تک اللہ نے اسکو بچایا ہے۔ کیسے کیسے ؟ اس پر اگر لکھا جائے تو شائد ایک پوری کتاب کی ضرورت پڑے۔ یہاں 65ء کی جنگ کے واقعات بھی نہین لکھے جا سکے جس میں اللہ نے بلکل ویسے پاکستان کی مدد فرمائی تھی جیسے اصحاب بدر کی فرمائی تھی۔
واللہ پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔ اس کے ساتھ آنے والے وقت کے بہت سے اہم ترین معاملات وابستہ ہیں۔ جو شخص اس امانت میں خیانت کرے گا وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائیگا!
علامہ اقبال جس کوایک دنیا اللہ کا ولی مانتی ہے نے اپنی عمر کا آخری حصہ اس پاکستان کے بارے میں لوگوں کو آگہی دیتے گزار دیا!
صرف ایک مضمون میں پاکستان کے حوالے سے سب کچھ نہیں سمیٹا جا سکتا۔ کوشش کی ہے کہ کچھ چیدہ چیدہ معاملات پر لکھا جائے۔ جس جس ساتھی تک یہ پیغام پہچ رہا ہے وہ اس کو آگے پہنچا کر اپنا پاکستانی ہونے کا حق ادا کرے۔۔اس مضمون کو پڑھنے کے بعد کئی لوگوں میں پاکستان کے لئے محبت میں بہت اضافہ خاص کر جو اللہ کے قریب ہیں باقی دشمنوں کے لئے تو یہ بارود ثابت ہںوا ہںے مضمون آپ سے گزارش ہںے کہ بھرپور شئیر کریں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں