نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کرپشن کا ناسور


کرپشن (corruption) انگریزی زبان کا لفظ ہے، جو ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اردو میں اس کے معنی بدعملی، بدعنوانی، بداخلاقی، بگاڑ اور بدکاری استعمال ہوتے ہیں، جب کہ عربی میں ’’کرپشن‘‘ کا لفظ الفساد، انحراف اور مفسد کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ کرپشن کا لفظ ہر زبان، ہر ملک اور ہر معاشرے میں گھناؤنے اور منفی کاموں کے لیے بولا جاتا ہے اور ناپسندیدگی کے ساتھ اس کا اظہار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی صورت بھی اچھا عمل نہیں ہے۔

کرپشن کو ’’ام الخبائث‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ بے بہا برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ کرپشن اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے، جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح چمکتی دمکتی اور عیاں ہے کہ قوموں کی تباہی میں مرکزی کردار ہمیشہ کرپشن کا ہی ہوتا ہے، چاہے یہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہو وہ قوم اتنی ہی جلدی بربادی کے گڑھے میں جاگرتی ہے۔ اگر کسی قوم کے رگ و پے میں کرپشن سرایت کرجائے تو وہ اپنی شناخت و ساخت اور مقام و مرتبے سے یوں ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، جیسے کوئی بلند مقام کبھی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا۔

کرپشن کینسر کی مانند خطرناک اور سماج کو سماجی موت سے ہمکنار کرنیوالا بھیانک مرض ہے، جس معاشرے کو لگ جائے تو اس معاشرے کی بربادی یقینی سمجھیں۔ کرپشن معاشرے میں ایک اچھوت مرض کی طرح پھیلتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے اور جس طرح آکاس کی زرد بیل درختوں کو جکڑ کر ان کی زندگی چوس لیتی ہے، اسی طرح اگر ایک بارکرپشن کسی صحت مند و توانا معاشرے پر بھی آگرے تو ایک ادارے سے دوسرے ادارے کو جکڑتی چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ زرد ویرانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا اور آباد اور کامیاب اداروں میں بھی کچھ ہی عرصے بعد الو بولنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ معاشرے کی اخلاقی صحت کے محافظ ادارے بھی کرپشن کا شکار ہو کر رہزن بن جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں دنیا بھر میں حکومتوں کی کارکردگی میں شفافیت اور کرپشن کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کا خطہ سب سے زیادہ بدعنوانی کا شکار ہے، جس میں حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ کرپشن اور بدعنوانی کو روکنے والے اپنے اداروں کو مضبوط کریں اور ان اداروں کی کارکردگی میں سیاسی مداخلت کی دخل اندازی کو سختی سے روکنے کی کوشش کریں اور مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سمیت چھ ملکوں (بھارت، بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا) میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں کی راہ میں بڑی سنگین رکاوٹیں حائل ہیں۔

ان ممالک میں اگرچہ انسداد کرپشن کے لیے باقاعدہ سرکاری ادارے قائم ہیں، مگر ان اداروں کے اندر بھی کرپشن داخل ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجہ ان اداروں میں سیاسی مداخلت ہے، بااثر افراد بھی اپنی بدعنوانی کی بنا پر گرفت میں نہیں آتے۔ انسداد بدعنوانی کے افسروں کو بھی اپنی کارکردگی دکھانے کی پوری طرح آزادی حاصل نہیں ہے، ان اداروں میں تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہونے کے باعث بدعنوانی پر پوری طرح گرفت نہیں کی جا سکتی۔ متذکرہ ممالک کی حکومتوں میں اس عزم اور ہمت کا بھی فقدان ہے جو کرپشن پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے انسداد کے لیے جو نیم دلی سے کوششیں کی جاتی ہیں، وہ موثر ثابت نہیں ہوتیں۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سمیت عالمی اداروں کی رپورٹوں میں کرپشن میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔

لیکن پاکستان میں جن حلقوں پر حالات سدھارنے کی ذمے داری عاید ہوتی ہے، ان کے رویے سے ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ انھیں کرپشن سے ملک کو پہنچنے والے نقصان یا عوام کے مسائل میں روز افزوں اضافے کی کوئی پروا ہے، اگر انھیں کسی قسم کی کوئی فکر دامن گیر ہوتی تو کرپشن اور بدعنوانی کو روکنے والے اداروں سے سیاسی مداخلت کا قلع قمع کر کے کرپشن کے خلاف موثر و منظم اقدامات کیے جاتے اور افسران کو بلا خوف وخطر بڑے بڑے کرپٹ مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی مکمل آزادی دی جاتی اور حکومت کرپشن کو ختم کرکے دم لیتی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ ان کی مصلحتیں آڑے آجاتی ہیں اور معاشرے کے ناسور یونہی رستے رہتے ہیں۔ پاکستان کے لیے نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز ان گنت مشکلات سے دوچار ہے۔

مصائب کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ملک کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی مسائل کی کتھا اس قدر طویل ہے، جن کا شمار ناممکن کے قریب ہے۔ ان حالات میں اسی سرزمین کے بعض کرپٹ باسی اپنے سیاہ کرتوتوں سے ملک کے پاکیزہ نام کو دنیا میں بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جو بے حسی کی اس گہری گھاٹی میں جاگرے ہیںکہ صرف اپنے اللے تللوں اور اپنی تجوریوں کا پیٹ بھرنے کی خاطر اس خطہ پاک کی ناموس کو داؤ پر لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ حالانکہ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کے حصول کے لیے لاکھوں جانوں کے نذرانے اس لیے نہیں دیے تھے۔

ان کی قربانیوں کا مقصد تو کرپشن سے پاک معاشرے کا حصول تھا، بلکہ شاید بانیان پاکستان کے تخیل میں کبھی اس بات کے تصور کا گزر بھی نہ ہوا کہ بعد میں آنیوالے کچھ نااہل لوگ ہماری قربانیوں اور ملک کے حصول کے مقصد کو طاق نسیان میں ڈالتے ہوئے مملکت خداداد کو یوں رسوائی کے ہار پہنائیں گے اور کوئی ان کا احتساب کرنیوالا بھی نہ ہوگا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے تو 11 اگست 1947ء کی تقریر میں بڑے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت اور کرپشن ہے، اسمبلی کو اس زہر کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہیں‘‘ لیکن اب کرپٹ لوگ تمام قوانین کو پس پشت ڈال کر آزادی سے کرپشن کر رہے ہیں اور ملک کی بدنامی و تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ نہایت ہی شرمندگی کا مقام تو یہ ہے کہ اب کرپشن ہمارے معاشرے کا ایک ایسا ناسور بن گیا ہے۔

جس کی شاخوں نے ہر سو کرپشن کی مختلف النوع اقسام کی منڈیاں کھول دی ہیں، جس کی جڑیں ہر شعبہ زندگی میں پھیل چکی ہیں۔ اگرچہ ہر جگہ ایسے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جو کرپشن پر کڑھتے ہیں، اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور کرپشن کو اپنے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ سمجھتے ہیں، لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کی طرح ان کی صدا بھی کوئی نہیں سنتا، کیونکہ اس معاشرے میں کرپشن کرنیوالوں کی جڑیں بہت مضبوط اور گہری ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ ہی قوم و ملک کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ ملک کے کروڑوں لوگ کرپشن نہیں کرتے، لیکن کرپشن کے جبر کا شکار ضرور رہتے ہیں، سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ ان کرپٹ لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں جب کسی طاقتور اور اعلیٰ شخصیت کا بدعنوان ہونا ثابت ہو جاتا ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے، قرارواقعی سزا دے کر نشانِ عبرت بنانے میں ایک لحظہ کی تاخیر بھی روا نہیں رکھی جاتی، مگر ہمارے ہاں گنگا اْلٹی بہہ رہی ہے۔ اینٹی کرپشن ادارے تو قائم ہیں، لیکن کرپشن پر قابو نہیں پایا جاتا۔ کرپشن پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ’’کرپشن سے پاک‘‘ ممالک کی پیروی کرتے ہوئے، تمام مصلحتوں کو پاؤں تلے روند کر ہر کرپٹ شخص پر ہاتھ ڈالنا ہوگا، بصورت دیگر ملک کی بدنامی یونہی ہوتی رہے گی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...