نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

انٹرنیٹ پر پیسے کیسے کماییں

 آن لائن پیسے کیسے کمائے جا سکتے ہیں

                                             اسلام علیکم دوستو 

آجکل جب بھی یو ٹیوب یا فیس بک کو کھولا جاے تو بےشمار ویڈیوز آن لائن پیسے کمانے کی ترغیب دے رہی ھوتی ہیں. انٹرنیٹ پر یہ رحجان اتنا زیادہ ھے کہ اس چیز کو سیکھنے والے کو سمجھ نہیں آتی کہ کھاں سے شروع کرے. تو دوستو اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ایک چھوٹی سی کاوش کی ہے کہ اس چیز کو درست طریقے سےبیان کرسکوں

آج کل انٹرنیٹ کے ذریعے کمانے کے مندرجہ زیل طریقے ہییں1

.                                  یوٹیوب

ااپنا یوٹیوب چینل کھولنے کی بہت ساری وجوہات ہوسکتیں ہیں۔ کچھ لوگ دنیا کے ساتھ اپنے شوق اور علم بانٹنے کے لیے یو ٹیوب چینل کھولتے ہیں اور کچھ اس کے ذریعے زندگی کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا اظہار کرتے ہیں۔


مجھے اپنا یوٹیوب چینل کیوں کھولنا چاہیے؟


اگر آپ کے پاس کوئی خاص ٹیلنٹ ہے، چاہے وہ کوئی آلہ بجانے یا ویڈیو گیم کھیلنے کے حوالے سے ہو تو  آپ اپنے آپ کو متعارف کرانے اور فالورز بنانے کے لیے آپ اپنا یوٹیوب چینل کھول سکتے ہیں۔


لاکھوں کی تعداد میں لوگ چند مشہور یوٹیوب چینلز ہر مہینے دیکھتے ہیں۔ یوٹیوب چینلز پہ اپ لوڈ کی گئیں ویڈیوز ہر مہینے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ لہذا آپ کسی بھی موضوع پر ویڈیو بنانا چاہیں تو آپ کو دیکھنے والے ناظرین کو ایک بڑی تعداد دستیاب ہوگی۔


یوٹیوب چینل مقبول ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟


یوٹیوب چینل کے مقبول ہونے میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ آپ اگر فالورز بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کو باقاعدگی کے ساتھ ویڈیوز اپ لوڈ کرنا ہوں گی۔ اگر ہفتے میں ایک ویڈیو پہ کام کرنا پڑے تو باقاعدگی کے ساتھ ہر ہفتے ایک ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پہ اپ لوڈ کرنا ہوگی۔ کسی خاص موضوع پر کام کرنے کے لیے محنت اور وقت کا نذرانہ درکار ہوتا ہے۔ خصوصی ویڈیوز مارکیٹ میں لانے کے لیے زیادہ عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔


کیا مہنگا سامان (equipment) خریدنے کی ضرورت ہوگی؟ 


اگر آپ کے پاس مہنگے سامان کے لیے پیسے نہیں ہیں تو فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں۔ یوٹیوب چینل کھولنے کے لیے مہنگا سامان  (equipment) خریدنا ضروری نہیں ہے۔ عام اسمارٹ فون پر ایچ ڈی ویڈیو بنائی جاسکتی ہے۔


موبائل فون سے ویڈیوز بنانے کے لیے اضافی چھوٹے موٹے پرزے خریدے جاسکتے ہیں تاکہ ویڈیو کی کوالٹی کو بہتر بنایا جاسکے۔ اس کے لیے اسمارٹ فون ٹرائی پورٹ اور پلگ ان (plug-in)  مائیک سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ویڈیو کی اچھی کوالٹی کیلئے ڈی ایس ایل آر کیمرہ سب سے بہتر انتخاب ہے


ویڈیو کی کوالٹی کو کیسے بہتر کیا جائے؟


ویڈیو کی بہتر کوالٹی کے لیے روشن ماحول کا انتخاب کرنا لازمی ہے۔ اگر آپ اسٹوڈیو لائٹنگ کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو کھڑکی سے آنے والی قدرتی روشنی کو استعمال کر کے ویڈیو کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔


کیا ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھنے کی ضرورت ہے؟


اگر آپ نے پہلے کبھی ویڈیو ایڈٹ نہیں کی تو ویڈیو ایڈیٹنگ کا عمل سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ بے شمار آن لائن ایپس جیسا کہ آئی مووی اور ویڈیو پیڈ وغیرہ اور ویڈیو ایڈیٹرز موجود ہیں جن پہ ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام سیکھا جاسکتا ہے۔


ان ایپس اور ویڈیو ایڈیٹرز میں ایسی خصوصیات پہلے سے موجود ہوتی ہیں جن کی مدد سے ویڈیو ایڈیٹنگ آسانی سے سیکھی جاسکتی ہے۔


یوٹیوب چینل شروع کرنے کے لیے بہترین گیجٹس کونسے ہیں؟


یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیوز کو پیشہ ورانہ انداز میں شوٹ کرنے کے لیے بہت سارے گیجٹس (gadgets) سے کام لیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے مینفریٹو ٹرائی پورٹ، پیناسونک جی ایچ 5، جوبی گوریلا پوڈ موبائل رگ وغیرہ کا استعمال کر کے اچھی ویڈیوز بنائی جاسکتیں ہیں۔


اگر آپ یوٹیوب کی شرائط اور ایک خاص حد تک فالوورز بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو آپ کو اشتہار ملنا شروع ہو جائیں گے جس سے آپ کو خاطر خواہ آمدن ہو سکتی ہے۔پنا یوٹیوب چینل کھولنے کی بہت ساری وجوہات ہوسکتیں ہیں۔ کچھ لوگ دنیا کے ساتھ اپنے شوق اور علم بانٹنے کے لیے یو ٹیوب چینل کھولتے ہیں اور کچھ اس کے ذریعے زندگی کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا اظہار کرتے ہیں۔


مجھے اپنا یوٹیوب چینل کیوں کھولنا چاہیے؟

اگر آپ کے پاس کوئی خاص ٹیلنٹ ہے، چاہے وہ کوئی آلہ بجانے یا ویڈیو گیم کھیلنے کے حوالے سے ہو تو آپ اپنے آپ کو متعارف کرانے اور فالورز بنانے کے لیے آپ اپنا یوٹیوب چینل کھول سکتے ہیں۔

لاکھوں کی تعداد میں لوگ چند مشہور یوٹیوب چینلز ہر مہینے دیکھتے ہیں۔ یوٹیوب چینلز پہ اپ لوڈ کی گئیں ویڈیوز ہر مہینے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ لہذا آپ کسی بھی موضوع پر ویڈیو بنانا چاہیں تو آپ کو دیکھنے والے ناظرین کو ایک بڑی تعداد دستیاب ہوگی۔

یوٹیوب چینل مقبول ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

یوٹیوب چینل کے مقبول ہونے میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ آپ اگر فالورز بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کو باقاعدگی کے ساتھ ویڈیوز اپ لوڈ کرنا ہوں گی۔ اگر ہفتے میں ایک ویڈیو پہ کام کرنا پڑے تو باقاعدگی کے ساتھ ہر ہفتے ایک ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پہ اپ لوڈ کرنا ہوگی۔ کسی خاص موضوع پر کام کرنے کے لیے محنت اور وقت کا نذرانہ درکار ہوتا ہے۔ خصوصی ویڈیوز مارکیٹ میں لانے کے لیے زیادہ عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔

کیا مہنگا سامان (equipment) خریدنے کی ضرورت ہوگی؟ 

اگر آپ کے پاس مہنگے سامان کے لیے پیسے نہیں ہیں تو فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں۔ یوٹیوب چینل کھولنے کے لیے مہنگا سامان (equipment) خریدنا ضروری نہیں ہے۔ عام اسمارٹ فون پر ایچ ڈی ویڈیو بنائی جاسکتی ہے۔

موبائل فون سے ویڈیوز بنانے کے لیے اضافی چھوٹے موٹے پرزے خریدے جاسکتے ہیں تاکہ ویڈیو کی کوالٹی کو بہتر بنایا جاسکے۔ اس کے لیے اسمارٹ فون ٹرائی پورٹ اور پلگ ان (plug-in) مائیک سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ویڈیو کی اچھی کوالٹی کیلئے ڈی ایس ایل آر کیمرہ سب سے بہتر انتخاب ہے

ویڈیو کی کوالٹی کو کیسے بہتر کیا جائے؟

ویڈیو کی بہتر کوالٹی کے لیے روشن ماحول کا انتخاب کرنا لازمی ہے۔ اگر آپ اسٹوڈیو لائٹنگ کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو کھڑکی سے آنے والی قدرتی روشنی کو استعمال کر کے ویڈیو کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

کیا ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھنے کی ضرورت ہے؟

اگر آپ نے پہلے کبھی ویڈیو ایڈٹ نہیں کی تو ویڈیو ایڈیٹنگ کا عمل سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ بے شمار آن لائن ایپس جیسا کہ آئی مووی اور ویڈیو پیڈ وغیرہ اور ویڈیو ایڈیٹرز موجود ہیں جن پہ ویڈیو ایڈیٹنگ کا کام سیکھا جاسکتا ہے۔

ان ایپس اور ویڈیو ایڈیٹرز میں ایسی خصوصیات پہلے سے موجود ہوتی ہیں جن کی مدد سے ویڈیو ایڈیٹنگ آسانی سے سیکھی جاسکتی ہے۔

یوٹیوب چینل شروع کرنے کے لیے بہترین گیجٹس کونسے ہیں؟

یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیوز کو پیشہ ورانہ انداز میں شوٹ کرنے کے لیے بہت سارے گیجٹس (gadgets) سے کام لیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے مینفریٹو ٹرائی پورٹ، پیناسونک جی ایچ 5، جوبی گوریلا پوڈ موبائل رگ وغیرہ کا استعمال کر کے اچھی ویڈیوز بنائی جاسکتیں ہیں۔

اگر آپ یوٹیوب کی شرائط اور ایک خاص حد تک فالوورز بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو آپ کو اشتہار ملنا شروع ہو جائیں گے جس سے آپ کو خاطر خواہ آمدن ہو سکتی ہے۔

حاضر میں بلاگنگ کی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ دنیا بھر میں بلاگرز کی تعداد 350 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں ہر چھے ماہ میں کم و بیش 25 ملین کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اکثر کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین اپنے اداروں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بلاگز لکھتے ہیں۔ بلاگنگ کئی لوگوں کی ماہانہ آمدنی کا ذریعہ بھی ہے، بلاگنگ کے ذریعے کئی بڑی بڑی کمپنیاں تشہیری مہم چلاتی ہیں اور اپنی کمپنی کے لیے بلاگز لکھواتی ہیں۔ الغرض بلاگنگ مارکیٹنگ کا ایک اہم اور بنیادی ذریعہ ہے۔

                                                             بلاگنگ

لفظ بلاگ انگریزی زبان کے الفاظ ”ویب“ اور ”لاگ“ کے اشتراک سے وجود میں آیا ہے۔ بلاگ ایسی تحریر یا مضمون کو کہتے ہیں جو ورلڈ وائیڈ ویب (ڈیجیٹل میڈیا/برقی صفحات) پر شائع کی جائے۔


سادہ اور آسان لفظوں میں آپ اسے ڈیجیٹل ڈائری بھی کہہ سکتے ہیں جہاں آپ اپنے نقطہ نظر، اپنے تجربات و مشاہدات اور خیالات کا لاکھوں لوگوں کے ساتھ تبادلہ کرسکتے ہیں۔ معاشرتی مسائل، سیاست، تعلیم، کھیل، فیشن اور دیگر کئی چیزوں پر تبصرے کرسکتے ہیں۔ جہاں لکھنے کے لیے آپ کسی ادارے یا ویب سائٹ کی پالیسیز کے پابند نہیں ہوتے۔ آپ کا لکھا عوامی ہوتا ہے جسے لوگ پڑھتے ہیں، تبصرہ و تنقید کرتے ہیں۔

                                     کیسے لکھیں؟ اصول و ضوابط:


بلاگ لکھنے کا طریقہ کار بالعموم وہی ہے جو مضمون لکھنے کا ہے۔ فرق یہ ہے کہ آپ بلاگ میں مضمون کی طرح پابند نہیں ہوتے، بلاگ میں کئی موضوعات پر بیک وقت تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ مضمون میں عموماً لسانی سنجیدگی اور معیار کا خیال رکھا جاتا ہے جب کہ بلاگ میں بے لاگ تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ بلاگ لکھتے وقت بھی تحریر کے مقصد کو مد نظر رکھیں، یہ سوچ کر لکھیں کہ آپ کے لکھے ہوئے کو ہر طرح کا مزاج اور سوچ رکھنے والے لوگ پڑھیں گے۔ ان کا آپ سے، آپ کی رائے نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

محمد علی سدپارہ.. پھاڑوں کا بیٹا پھاڑوں کے دامن میں ھمیشہ کے لیے سو گیا

محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق: ’پہاڑوں کا بیٹا‘ کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی تحریر : میاں ظاہر حفیظ ،تصویر کا ذریعہ INSTAGRAM/@14DAWA ،تصویر کا کیپشن سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل کوہ پیما: جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں) گلگت بلتستان کے حکام نے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔ اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے ہی جمعرات کو سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ ساجد ...

محمد بن سلمان... اقتدار کے لیے گھناؤنی سازشیں کرنے والا حکمران

،تصویر کا ذریعہ REUTERS رواں ہفتے امریکہ کی نئی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر واضح انداز میں اشارے دیے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے کیسے اپنے آپ کو دور رکھے گی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جن پاسکی نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کلیدی اتحادی، سعودی عرب، سے امریکہ کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کی وساطت سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے قریبی تعلقات استور کر لے تھے اور اُن کو امریکہ کی طرف سے فروخت کیے گئے ہتھیاروں کو یمن کی جنگ میں بے دریغ استعمال کی کھلی چھٹی دے دی تھی۔ بظاہر اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ صدر جو بائیڈن ولی عہد محمد بن سلمان کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاملات براہ راست شاہ سلمان سے بات چیت کے ذریعے نمٹائیں گے۔ شاہ سلمان ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں، اُن کی عمر لگ بھگ 80 برس ہے اور ان کی صحت بھی بہت اچھی نہی امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے ...

ٹیکنالوجی کے معاشرے پر اثرات

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ، ٹیکنالوجی نے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج کا انسان ٹکنالوجی کی پرنزم کے ذریعہ زندگی کو دیکھتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی پہلے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر ہم دس سال پہلے دیکھیں تو زندگی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ تعلقات ، کنبہ اور دوست احباب ترجیح رکھتے تھے۔ لوگ ساتھ بیٹھے رہتے تھے ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے ، اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ لیکن آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے بہن بھائی فوری پیغام رسانی یا واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے کنبہ کے افراد کی خیریت فیس بک یا واٹس ایپ کی حیثیت سے ان کے علم میں آتی ہے۔ پہلے ، ایک کالونی میں ایک ہی گھر میں سنگل ٹیلی ویژن ہوتا تھا یا پوری کالونی میں ایک گھر میں تھوڑا سا پیچھے ٹیلی ویژن جاتا تھا ، سارا محلہ رات کی خبریں اور میچ دیکھنے کے لئے جمع ہوتا تھا ، ہر ایک ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوتا تھا ، آج وہاں موجود ہے۔ ہر گھر میں ایک یا زیادہ ٹیلی ویژن ہے لیکن کوئی بھی اسے اس طرح نہیں دیکھتا جس طرح اسے پہلے دیکھا گیا تھا۔ آج ، ہر ایک کے پاس سمارٹ فو...