14 فروری ٢٠٢١
تحریر و تحقیق
میاں ظاہر حفیظ
آغاز ۔ ۔ ۔
قاضی فائز عیسیٰ کیس ، انتہائی اختصار کیساتھ ۔ بھارتی سرنڈر پر ریٹائرڈ جرنیلوں ، اپوزیشن لیڈر کے بیانات ۔ بھارتی رسوائی ، شی ، جو ٹیلیفونک رابطہ ، مودی پھر رسوا ۔ امریکی پالیسی ۔ عربوں کی ذلت و رسوائی کے بعد پاکستان کیطرف واپسی ۔ ترکی میں ایرانی ڈپلومیٹ گرفتار ۔ ۔ ۔
سینیٹ الیکشنز سے پہلے ایم این ایز ، ایم پی ایز کو ترقیاتی فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں ، اختلاف یا اتفاق کیا جا سکتا ہے ، لیکن یہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ جونہی یہ خبر چھپی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نوٹس لیا ، معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا دیا ، پانچ رکنی بنچ چیف جسٹس آف پاکستان نے تشکیل دیا ، فائز عیسیٰ کو اسکا حصہ بنا دیا ، پہلی سماعت پر انتہائی غیر معمولی ریمارکس پاس کئے ، بو آ رہی تھی کہ حکومت اور جیوڈیشری کو لڑوانے کا بہانہ تلاش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری نے جواب بھجوا دیا ، اگلی سماعت پر پھر انتہائی غلط ریمارکس دئیے ، یہ بھی کہا کہ مجھے واٹس ایپ پر ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے ڈیٹیلز موصول ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ اٹارنی جنرل ، فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔ ۔ ۔ باقی ججز نے محسوس کیا ، معاملات کچھ ذاتی رنجش کے ہیں ۔ ۔ ۔
وہیں پر بات ہوئی ، قاضی فائز عیسیٰ ، عمران خان کیخلاف فریق ہیں ۔ جب فائز عیسیٰ کے خاندان کی جائیدادیں لندن میں ٹریس ہوئیں ، ریفرینس فائل ہوا ، وہ معاملہ تو خیر آج سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے ، ایف بی آر تحقیقات کر رہا ہے ، مگر اسوقت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان کیخلاف ایک درخواست فائل کی تھی ۔ ۔ ۔
سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ آ چکا ہے ، قاضی فائز عیسیٰ کے مؤقف کی نفی کی جا چکی ہے ، لارجر بنچ عمران خان کے سٹیٹمنٹ سے مطمئن ، آئندہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، عمران خان کیخلاف کوئی کیس نہیں سن سکتے نا نوٹس لے سکتے ہیں ۔ واضح رھے ، از خود نوٹس / سو موٹو ایکشن صرف اور صرف چیف جسٹس آف پاکستان کا صوابدیدی اختیار ہے ، انکے علاوہ کوئی ممبر یہ ایکشن نہیں لے سکتا ، البتہ نوٹس / توجہ دلائی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ عقلمند کو اشارہ کافی ۔ ۔ ۔
بھارت اپنی تاریخ کا چین کے سامنے بدترین سرنڈر کر چکا ہے ، جس قسم کا معاہدہ سامنے آیا ہے ، بھارتی ریٹائرڈ جنرلز کا کہنا ہے ، یہ چو این لائی ( سابقہ چینی سربراہ ) کا 1959 میں دیا گیا فارمولا ہے ، بھارت اسکو آج تسلیم کر چکا ہے ، اگر یہی فارمولا تسلیم کرنا تھا تو اسی وقت کر لیتے 1962 کی جنگ ہی نا ہوتی ۔ ۔ ۔ ایل اے سی پر اتنی کش مکش ہی نا ہوتی ۔ ۔ ۔ اب یہ سب نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ اسے کہتے ہیں سو جوتے ، سو پیاز ۔
بھارتی ریٹائرڈ جرنیل پراوین سانھے کا کہنا ہے ، چین ، بھارت میں کیوں گھسا ، گلوان میں بیس بھارتی فوجیوں کو کیوں مارا ، ارونا چل پردیش ، ڈیپ سنگ ، چوشل میں کیوں داخل ھوا ؟ چین کی ہر حرکت کے پیچھے ، مودی کا پانچ اگست 2019 کا اقدام رھا ، جس میں کشمیری خود مختاری ختم کر کے اسے زبردستی بھارت میں ضم کیا گیا ۔ ۔ ۔ بھارتی دفاعی حلقوں میں ایک خبر یہ بھی زور و شور سے چل رہی ہے کہ ، چین میں فی الحال سپرنگ فیسٹیول کی چھٹیاں چل رہی ہیں ، یہ چھٹیاں ختم ہوتے ہی ، بھارت پر دوبارہ کارروائی کا آغاز ہو گا ۔ ۔ ۔
راہول گاندھی ( اپوزیشن لیڈر ) نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے رکھا ہے ، اسکے مطابق مودی نے بھارتی افواج انکی قربانیوں کے منہ پر تھوکا ہے ، فوج لڑنا چاہتی تھی ، لیکن مودی چین کے سامنے نہیں ٹھہر سکا ، یہ بزدل شخص ہے ، فوج مودی سے سرینڈر کرنے پر سخت ترین نالاں ہے ۔ راہول گاندھی بار بار چین کو دئیے گئے علاقوں کے نام لیتا رہا ، پوچھتا رہا یہ تو دے دیا ، اسکے بدلے لیا کیا ؟ کوئی ڈس انگیجمنٹ نہیں ہوئی ، یہ بدترین سرنڈر ہوا ہے ۔ ۔ ۔ کوئی مودی کو یہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا ۔ پورا بھارتی میڈیا راہول گاندھی کیخلاف کھڑا ہو چکا ہے ، بجاۓ مودی کیخلاف کھڑا ہونے کے ۔ ۔ ۔
مزید بھارت اور را ، دنیا میں مزید ذلت کا شکار 20 اسرائیلی پکڑے گئے ہیں شن بت ( موساد ) کیجانب سے ، جو خود کش ڈرون بنا رھے تھے ، غیر قانونی طور پر ، اسرائیل میں ہی ، مختلف جگہوں پر اسکے ٹیسٹ کئے جا چکے تھے ۔ بھارت بھجوانے تھے ، یہ ڈرون را نے غیر قانونی طور پر تیار کرواۓ تھے ، پاکستان پر حملے کیلئے ، گرے مارکیٹ کے ذریعے ۔ پورا نیٹ ورک پکڑا گیا ، دنیا پھر بھارت پر تھو تھو کر رہی ہے ۔
امریکی صدر ، جو بائیڈن ، چینی صدر ، شی جنگ پنگ کی دو گھنٹے طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ، اس دوران امریکی صدر نے ایک مرتبہ بھی لداخ / بھارتی معاملہ ڈسکس نہیں کیا ، صرف چینی ، امریکی تعلقات پر بات ہوئی ، مودی کو امریکہ بھی تنہا چھوڑ رہا ہے ، ایک مرتبہ پھر مودی کی ، بے عزتی ۔ اب امریکہ ، چین تعلقات پر ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے جو انڈو پیسیفک پالیسی پر نظر ثانی کرے گی ۔ یہاں یہ بات واضح رھے ، امریکہ ، چین کو سب سے بڑا دشمن ڈکلیئر کر چکا ہے ، ہر صورت چین کا مقابلہ کیا جائے گا ، پالیسی چین پر ٹرمپ والی ہی چلے گی ، لیکن طریقہ کار مختلف ہو گا ، امریکی صدر جو بائیڈن بیان دے چکا ہے کہ اگر چین کو قابو نہیں کیا تو یہ ہمارا لنچ کھا جاۓ گا ۔
چین نے پروپیگنڈہ وار سے بچنے کیلئے ، بی بی سی کو بین کر دیا ہے ، یو کے کواڈ ممالک کیساتھ مل رہا ہے ، چین کیخلاف انڈو پیسفک ریجن میں ۔ بائیڈن ایران کے ذریعے ، عربوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے ، جبکہ ٹرمپ عربوں کے ذریعے ایران کی تباہی چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ عرب سپرنگ عرب میں جہاں رک گیا تھا ٹرمپ دور میں بائیڈن اسکو وہیں سے شروع کرے گا ، یہ پلان ہے ، افغانستان کی جنگ ہر صورت پاکستان منتقل کرنے کی کوشش کی جاۓ گی ۔ ۔ ۔
امریکہ کی مڈل ایسٹ پالیسیز بدلتے ہی سعودیہ ، یو اے ای نے پاکستان سے تعلقات ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ادھار تیل کی بحالی کیجا رہی ہے ، بقیہ قرض کی رقم بھی نہیں لی جا رہی ، یو اے ای نے تو اپنے وزیر خارجہ انور گرگاش کو پاکستان مخالف شدید تنقید ، اسرائیل سے تعلقات کا خواہاں ہونے پر ، عہدے سے ہٹا دیا ہے ، کیا انور گرگاش خود فیصلے کر رہا تھا ، خیر ، اب امریکہ کو مڈل ایسٹ کے تیل کی ضرورت نہیں رہی ، خارجہ پالیسی عرب کے حوالے سے اسی لئے تبدیل کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ سعودیہ کو مجبوری میں پھر چین کیطرف آنا پڑ رہا ہے ، جب حالیہ سعودیہ نے اسرائیل کے کہنے پر پاکستان سے رقم کا مطالبہ کیا تھا ، پاکستان کو چین نے وہ رقم ادا کی تھی ، پیغام دیا جا چکا ہے عرب ممالک کو چین کیساتھ تعلقات کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے ۔ زمینی حقائق بدل چکے ہیں ، سعودیہ متبادل دوستوں کی تلاش میں ہے ، کیا ہی خوبصورت بات ہوتی ، وقت پر پاکستان بات سن لیتے تو عالمی تنہائی کا شکار نا ھوتے ، جب عمران خان ڈرائیور بنا ہوا تھا ، عزت راس نہیں آئ ، نا ۔ ۔ ۔ بہرحال ٹرائیکا عرب سپرنگ اور تیل کے چکر میں عرب ممالک کی وہ حالت کر دے گا اگلے پانچ سے دس سال میں کہ یہ خود کو سنبھال نہیں پائیں گے ، پھر پاکستان کام آیا ، عرب ممالک کو سی پیک سے جوڑ رہا ہے ، میری ٹائم سیکورٹی ایگریمنٹ کر کے خلیج عرب میں لیڈنگ رول پلے کرنے جا رہا ہے ۔
آخر میں بتاتا چلوں ترکی نے ایرانی ڈپلومیٹ قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے ، قتل ھونے والا ایرانی نثراد مسعود جان ایرانی خفیہ ایجنسی میں کام کرتا تھا ، استفعئ دیکر ترکی آیا ، ایرانی حکام و فوج کی کرپشن کیخلاف مہم چلا رہا تھا ، ایرانی خفیہ ایجنسی نے ترکی میں اپنا ایجنٹ بھیج کر نشانہ بنایا ۔ ۔ ۔ ایرانی ڈپلومیٹ ناصر زادہ نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ، ایک اور واقعہ میں حبیب نامی شخص کو قتل کرنے میں بھی ایرانی ایجنسیز کا ہاتھ نکلا تھا ، یہ دو واقعات ایران کیلئے جمال خشوگی پارٹ ٹو بن سکتے ہیں ، ترکی جب چاہے ایران پر دباؤ ڈال سکتا ہے ، بین الاقوامی فورم پر یہ کیس لے جا کر ۔ خطے کے سیاسی حالات بھی تیزی سے تبدیل ہو رھے ہیں ۔ ۔ ۔
بین الاقوامی جرائد و سوشل میڈیا ریسرچ ۔
#mianzahir
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں